کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”آپ اس کو (یعنی قرآن کو) جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان نہ ہلایا جلایا کریں“۔
حدیث نمبر: Q4927
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سُدًي : هَمَلًا ، لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ : سَوْفَ أَتُوبُ سَوْفَ أَعْمَلُ ، لَا وَزَرَ : لَا حِصْنَ سُدًى هَمَلًا .
مولانا داود راز
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ «سدى» یعنی بےقید ، آزاد جو چاہے وہ کرے ۔ «ليفجر أمامه» یعنی انسان ہمیشہ گناہ کرتا رہتا اور یہی کہتا رہتا ہے کہ جلدی توبہ کر لوں گا ، جلدی اچھے عمل کروں گا ۔ «لا وزر» ای «لا حصن» یعنی پناہ کے لیے کوئی قلعہ نہیں ملے گا ۔
حدیث نمبر: 4927
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، وَكَانَ ثِقَةً ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ حَرَّكَ بِهِ لِسَانَهُ " ، وَوَصَفَ سُفْيَانُ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16 .
مولانا داود راز
´ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے بیان کیا اور موسیٰ ثقہ تھے ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اپنی زبان ہلایا کرتے تھے ۔ سفیان نے کہا کہ اس ہلانے سے آپ کا مقصد وحی کو یاد کرنا ہوتا تھا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «لا تحرك به لسانك لتعجل به» ” آپ جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان نہ ہلایا کریں ، اس کا جمع کر دینا اور اس کا پڑھوا دینا ، یہ ہر دو کام تو ہمارے ذمہ ہیں ۔“