حدیث نمبر: Q4920
إِنَّا أَرْسَلْنَا أَطْوَارًا طَوْرًا : كَذَا وَطَوْرًا كَذَا ، يُقَالُ : عَدَا طَوْرَهُ أَيْ قَدْرَهُ وَالْكُبَّارُ أَشَدُّ مِنَ الْكِبَارِ ، وَكَذَلِكَ جُمَّالٌ وَجَمِيلٌ لِأَنَّهَا أَشَدُّ مُبَالَغَةً ، وَكُبَّارٌ الْكَبِيرُ وَكُبَارًا أَيْضًا بِالتَّخْفِيفِ وَالْعَرَبُ ، تَقُولُ رَجُلٌ حُسَّانٌ وَجُمَّالٌ وَحُسَانٌ مُخَفَّفٌ وَجُمَالٌ مُخَفَّفٌ ، دَيَّارًا : مِنْ دَوْرٍ ، وَلَكِنَّهُ فَيْعَالٌ مِنَ الدَّوَرَانِ كَمَا قَرَأَ عُمَرُ الْحَيُّ الْقَيَّامُ وَهِيَ مِنْ قُمْتُ وَقَالَ غَيْرُهُ : دَيَّارًا أَحَدًا تَبَارًا هَلَاكًا ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مِدْرَارًا يَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَقَارًا عَظَمَةً .
مولانا داود راز
«أطوارا» کبھی کچھ کبھی کچھ مثلاً منی پھر گوشت کا لوتھڑا عرب لوگ کہتے ہیں «عدا طوره.» اپنے انداز سے بڑھ گیا ۔ «كبار» ( بہ تشدید باء ) میں «كبار» سے زیادہ مبالغہ ہے یعنی بہت ہی بڑا ، جیسے جمیل خوبصورت ، جمال بہت ہی خوبصورت غرض «كبار» کا معنی بڑا کبھی اس کو «كبار» تخفیف باء سے بھی پڑھا ہے ۔ عرب لوگ کہتے ہیں «حسان» اور «جمال» ( تشدید سے ) اور «حسان» اور «جمال» ( تخفیف سے ) ۔ «ديارا» ، «دور» سے نکلا ہے ۔ اس کا وزن «فيعال» ہے ( اصل میں دیوار تھا ) جیسے عمر رضی اللہ عنہ نے «الحى القيوم.» کو «الحى القيام.» پڑھا ہے ۔ یہ قیامت «قمت» سے نکلا ہے ( تو اصل میں «قيوام» تھا ) ۔ اوروں نے کہا «ديارا» کے معنی کسی کو «تبارا» ہلاکت ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «مدرارا» ایک کے پیچھے دوسرا یعنی لگاتار بارش ۔ «وقارا» عظمت بڑائی مراد ہے ۔