حدیث نمبر: Q4917
وَقَالَ قَتَادَةُ : حَرْدٍ : جِدٍّ فِي أَنْفُسِهِمْ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : يَتَخَافَتُونَ يَنْتَجُونَ السِّرَارَ وَالْكَلَامَ الْخَفِيَّ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَضَالُّونَ : أَضْلَلْنَا مَكَانَ جَنَّتِنَا ، وَقَالَ غَيْرُهُ : كَالصَّرِيمِ : كَالصُّبْحِ انْصَرَمَ مِنَ اللَّيْلِ وَاللَّيْلِ انْصَرَمَ مِنَ النَّهَارِ وَهُوَ أَيْضًا كُلُّ رَمْلَةٍ انْصَرَمَتْ مِنْ مُعْظَمِ الرَّمْلِ ، وَالصَّرِيمُ أَيْضًا الْمَصْرُومُ مِثْلُ قَتِيلٍ وَمَقْتُولٍ.
مولانا داود راز
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «يتخافتون» چپکے چپکے ، کانا پھوسی کرتے ہوئے ۔ قتادہ نے کہا «حرد» کے معنی دل سے کوشش کرنا یا بخیلی یا غصہ ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «لضالون» کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے باغ کی جگہ بھول گئے ، بھٹک گئے اور آگے بڑھ گئے ۔ اوروں نے کہا «صريم» کے معنی صبح جو رات سے کٹ کر الگ ہو جاتی ہے یا رات جو دن سے کٹ کر الگ ہو جاتی ہے ۔ «صريم» اس ریتی کو بھی کہتے ہیں جو ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں سے کٹ کر الگ ہو جائے ۔ «صريم» ، «مصروم» کے معنی میں ہے جیسے «قتيل» ، «مقتول» کے معنوں میں ہے ۔