حدیث نمبر: Q4917-2
التَّفَاوُتُ الِاخْتِلَافُ وَالتَّفَاوُتُ وَالتَّفَوُّتُ وَاحِدٌ تَمَيَّزُ تَقَطَّعُ : مَنَاكِبِهَا ، جَوَانِبِهَا : تَدَّعُونَ ، وَتَدْعُونَ وَاحِدٌ مِثْلُ تَذَّكَّرُونَ وَتَذْكُرُونَ ، وَيَقْبِضْنَ يَضْرِبْنَ بِأَجْنِحَتِهِنَّ ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : صَافَّاتٍ : بَسْطُ أَجْنِحَتِهِنَّ وَنُفُورٌ الْكُفُورُ .
مولانا داود راز
«التفاوت» کا معنی اختلاف ، فرق «تفاوت» اور «تفوت» دونوں کا ایک معنی ہے ۔ «تميز» ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے ۔ «مناكبها» اس کے کناروں میں ۔ «تدعون» ( دال کی تشدید ) اور «تدعون» ( دال کے جزم کے ساتھ ) دونوں کا ایک ہی معنی ہے جیسے «تذكرون.» اور «تذكرون» ( ذال کے جزم کے ساتھ ) کا ایک ہی معنی ہے ۔ «يقبضن» اپنے پنکھ مارتے ہیں ( یا سمیٹ لیتے ہیں ) ۔ مجاہد نے کہا «صافات» کے معنی اپنے بازو کھولے ہوئے ۔ «نفور» سے کفر اور شرارت مراد ہے ۔