حدیث نمبر: Q4853
وَقَالَ قَتَادَةُ : مَسْطُورٍ : مَكْتُوبٍ ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : الطُّورُ الْجَبَلُ بِالسُّرْيَانِيَّةِ ، رَقٍّ مَنْشُورٍ : صَحِيفَةٍ ، وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ : سَمَاءٌ ، الْمَسْجُورِ : الْمُوقَدِ ، وَقَالَ الْحَسَنُ : تُسْجَرُ حَتَّى يَذْهَبَ مَاؤُهَا ، فَلَا يَبْقَى فِيهَا قَطْرَةٌ ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : أَلَتْنَاهُمْ : نَقَصْنَا ، وَقَالَ غَيْرُهُ : تَمُورُ تَدُورُ ، أَحْلَامُهُمْ : الْعُقُولُ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : الْبَرُّ : اللَّطِيفُ كِسْفًا قِطْعًا الْمَنُونُ الْمَوْتُ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : يَتَنَازَعُونَ : يَتَعَاطَوْنَ .
مولانا داود راز
قتادہ نے کہا «مسطور» بمعنی «مكتوب» یعنی لکھی ہوئی ہے ۔ مجاہد نے کہا «الطور» سریانی زبان میں پہاڑ کو کہتے ہیں «رق منشور» یعنی صحیفہ کھلا ہوا ورق ۔ «لسقف المرفوع» یعنی آسمان ۔ «المسجور» یعنی گرم کیا گیا ۔ حسن بصری نے کہا «مسجور» سے مراد یہ ہے کہ سمندر میں ایک دن طغیانی آ کر اس کا سارا پانی سوکھ جائے گا اور اس میں ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا ۔ مجاہد نے کہا کہ «ألتناهم» کے معنی گھٹایا ، کم کیا ۔ مجاہد کے علاوہ دوسروں نے کہا کہ «تمور» گھومے گا ۔ «أحلامهم» کے معنی ان کی عقلیں ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «البر» کے معنی مہربان ۔ «كسفا» کے معنی ٹکڑے ۔ «المنون» کے معنی موت ۔ اوروں نے کہا «يتنازعون» کا معنی ایک دوسرے سے جھپٹ لیں انہیں مذاق سے یا لڑائی سے ۔