کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ ق کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4848
رَجْعٌ بَعِيدٌ : رَدٌّ ، فُرُوجٍ : فُتُوقٍ وَاحِدُهَا فَرْجٌ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ وَرِيدَاهُ فِي حَلْقِهِ ، وَالْحَبْلُ حَبْلُ الْعَاتِقِ ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : مَا تَنْقُصُ الْأَرْضُ : مِنْ عِظَامِهِمْ ، تَبْصِرَةً : بَصِيرَةً ، حَبَّ الْحَصِيدِ : الْحِنْطَةُ ، بَاسِقَاتٍ : الطِّوَالُ ، أَفَعَيِينَا : أَفَأَعْيَا عَلَيْنَا حِينَ أَنْشَأَكُمْ وَأَنْشَأَ خَلْقَكُمْ ، وَقَالَ قَرِينُهُ : الشَّيْطَانُ الَّذِي قُيِّضَ لَهُ ، فَنَقَّبُوا : ضَرَبُوا ، أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ ، لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِغَيْرِهِ : رَقِيبٌ عَتِيدٌ ، رَصَدٌ : سَائِقٌ وَشَهِيدٌ ، الْمَلَكَانِ كَاتِبٌ وَشَهِيدٌ ، شَهِيدٌ : شَاهِدٌ بِالْغَيْبِ مِنْ لُغُوبٍ : النَّصَبُ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : نَضِيدٌ : الْكُفُرَّى مَا دَامَ فِي أَكْمَامِهِ وَمَعْنَاهُ مَنْضُودٌ بَعْضُهُ عَلَى بَعْضٍ ، فَإِذَا خَرَجَ مِنْ أَكْمَامِهِ ، فَلَيْسَ بِنَضِيدٍ ، وَإِدْبَارِ النُّجُومِ ، وَأَدْبَارِ السُّجُودِ ، كَانَ عَاصِمٌ يَفْتَحُ الَّتِي فِي ق وَيَكْسِرُ الَّتِي فِي الطُّورِ وَيُكْسَرَانِ جَمِيعًا وَيُنْصَبَانِ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : يَوْمَ الْخُرُوجِ يَوْمَ يَخْرُجُونَ إِلَى الْبَعْثِ مِنَ الْقُبُورِ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ «رجع بعيد‏» یعنی دنیا کی طرف پھر جانا دور از قیاس ہے ۔ «فروج‏» کے معنی سوراخ روزن ، «فرج‏» کی جمع ہے ۔ «وريد» حلق کی رگ ۔ اور «جمل» مونڈھے کی رگ ۔ مجاہد نے کہا «ما تنقص الأرض‏» سے ان کی ہڈیاں مراد ہیں جن کو زمین کھا جاتی ہے ۔ «تبصرة‏» کے معنی راہ دکھانا ۔ «حب الحصيد‏» گیہوں کے دانے ۔ «باسقات‏» لمبی لمبی بال ۔ «أفعيينا‏» کیا ہم اس سے عاجز ہو گئے ہیں ۔ «قال قرينه‏» میں «قرين‏» سے شیطان ( ہمزاد ) مراد ہے جو ہر آدمی کے ساتھ لگا ہوا ہے ۔ «فنقبوا‏ فى البلاد» یعنی شہروں میں پھرے ، دورہ کیا ۔ «أو ألقى السمع‏» کا یہ مطلب ہے کہ دل میں دوسرا کچھ خیال نہ کرے ، کان لگا کر سنے ۔ «افعيينا بالخلق الاول» یعنی جب تم کو شروع میں پیدا کیا تو کیا اس کے بعد ہم عاجز بن گئے اب دوبارہ پیدا نہیں کر سکتے ؟ «سائق» اور «شهيد‏» دو فرشتے ہیں ایک لکھنے والا دوسرا گواہ ۔ «شهيد‏» سے مراد یہ ہے کہ دل لگا کر سنے ۔ «لغوب‏» تھکن ۔ مجاہد کے سوا اوروں نے کہا «نضيد‏» وہ گابھا ہے ، جب تک وہ پتوں کے غلاف میں چھپا رہے ۔ «نضيد‏» اس کو اس لیے کہتے ہیں کہ وہ تہ بہ تہ ہوتا ہے جب درخت کا گابھا غلاف سے نکل آئے تو پھر اس کو «نضيد‏» نہیں کہیں گے ۔ «أدبار النجوم» ( جو سورۃ الطور میں ہے ) اور «أدبار السجود» جو اس سورت میں ہے ۔ تو عاصم سورۃ ق میں ( «أدبار» کو ) برفتحہ الف اور سورۃ الطور میں بہ کسرہ الف پڑھتے ہیں ۔ بعضوں نے دونوں جگہ بہ کسرہ الف پڑھا ہے بعضوں نے دونوں جگہ برفتحہ الف پڑھا ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «يوم الخروج» سے وہ دن مراد ہے جس دن قبروں سے نکلیں گے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4848