حدیث نمبر: Q4830
{أَوْزَارَهَا} آثَامَهَا حَتَّى لاَ يَبْقَى إِلاَّ مُسْلِمٌ. {عَرَّفَهَا} بَيَّنَهَا. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: {مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا} وَلِيُّهُمْ. {عَزَمَ الأَمْرُ} جَدَّ الأَمْرُ. {فَلاَ تَهِنُوا} لاَ تَضْعُفُوا. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {أَضْغَانَهُمْ} حَسَدَهُمْ. {آسِنٍ} مُتَغَيِّرٍ.
مولانا داود راز
«أوزارها» اپنے گناہ دھر دیئے یہاں تک کہ مسلمان کے سوا کوئی باقی نہ رہے ( اکثر لوگوں نے «أوزارها» کے معنی ہتھیاروں کے کئے ہیں ) ۔ «عرفها» اس کو بیان کر دے گا ، بتلا دے گا ۔ ( ہر ایک بہشتی اپنا گھر پہچان لے گا ) ۔ مجاہد نے کہا «مولى الذين آمنوا» اس «مولى» سے ولی یعنی کارساز مراد ہے ۔ «عزم الأمر» جب لڑائی کا ارادہ پکا ہو جائے ۔ «فلا تهنوا» سستی نہ کرو اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «أضغانهم» کے معنی ان کا حسد کینہ ۔ «آسن» سڑا ہوا پانی جس کا رنگ یا بو یا مزہ بدل جائے ۔