کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”پھر جب ان لوگوں نے بادل کو اپنی وادیوں کے اوپر آتے دیکھا تو بولے کہ واہ یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا، نہیں بلکہ یہ تو وہ ہے جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے، یعنی ایک آندھی جس میں درد ناک عذاب ہے“۔
حدیث نمبر: Q4828
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : عَارِضٌ : السَّحَابُ .
مولانا داود راز
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «عارض» بمعنی بادل ہے ۔
حدیث نمبر: 4828
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ .
مولانا داود راز
´ہم سے احمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ، انہیں عمرو نے خبر دی ، ان سے ابوالنضر نے بیان کیا ، ان سے سلیمان بن یسار نے` اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اس طرح ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا کوا نظر آ جائے بلکہ آپ تبسم فرمایا کرتے تھے ، بیان کیا کہ جب بھی آپ بادل یا ہوا دیکھتے تو ( گھبراہٹ اور اللہ کا خوف ) آپ کے چہرہ مبارک سے پہچان لیا جاتا ۔
حدیث نمبر: 4829
قَالَتْ : وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ فِي وَجْهِهِ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ ، فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عُرِفَ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةُ ، فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، مَا يُؤْمِنِّي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ ، فَقَالُوا : هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا " .
مولانا داود راز
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ` یا رسول اللہ ! جب لوگ بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ اس سے بارش برسے گی لیکن اس کے برخلاف آپ کو میں دیکھتی ہوں کہ آپ بادل دیکھتے ہیں تو ناگواری کا اثر آپ کے چہرہ پر نمایاں ہو جاتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ ! کیا ضمانت ہے کہ اس میں عذاب نہ ہو ۔ ایک قوم ( عاد ) پر ہوا کا عذاب آیا تھا ۔ انہوں نے جب عذاب دیکھا تو بولے کہ یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا ۔