کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”پس آپ انتظار کریں اس دن کا جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو“۔
حدیث نمبر: Q4820
قَالَ قَتَادَةُ : فَارْتَقِبْ : فَانْتَظِرْ .
مولانا داود راز
قتادہ نے فرمایا کہ «فارتقب» ای «فانتظر» یعنی انتظار کیجئے ۔
حدیث نمبر: 4820
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " مَضَى خَمْسٌ الدُّخَانُ ، وَالرُّومُ ، وَالْقَمَرُ ، وَالْبَطْشَةُ ، وَاللِّزَامُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدان نے بیان کیا ، ان سے ابوحمزہ نے ، ان سے اعمش نے ، ان سے مسلم نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ` ( قیامت کی ) پانچ علامتیں گزر چکی ہیں «الدخان» دھواں ، «الروم» غلبہ روم ، «القمر» چاند کا ٹکڑے ہونا ، «والبطشة» پکڑ اور «واللزام» ہلاکت اور قید ۔