کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ الدخان کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4820-2
وَقَالَ مُجَاهِدٌ : رَهْوًا : طَرِيقًا يَابِسًا ، وَيُقَالُ : رَهْوًا سَاكِنًا ، عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ : عَلَى مَنْ بَيْنَ ظَهْرَيْهِ ، وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ : عِينٍ أَنْكَحْنَاهُمْ حُورًا عِينًا يَحَارُ فِيهَا الطَّرْفُ ، فَاعْتُلُوهُ : ادْفَعُوهُ وَيُقَالُ أَنْ ، تَرْجُمُونِ : الْقَتْلُ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كَالْمُهْلِ : أَسْوَدُ كَمُهْلِ الزَّيْتِ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : تُبَّعٍ : مُلُوكُ الْيَمَنِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ يُسَمَّى تُبَّعًا لِأَنَّهُ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ وَالظِّلُّ يُسَمَّى تُبَّعًا لِأَنَّهُ يَتْبَعُ الشَّمْسَ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ مجاہد نے کہا «رهوا‏» کا معنی راستہ ۔ «على العالمين‏» سے مراد ان کے زمانے کے لوگ ہیں ۔ «فاعتلوه‏» کے معنی ان کو ڈھکیل دو ۔ «وزوجناهم بحور‏» کا مطلب ہم نے بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کا جوڑا ملا دیا جن کا جمال دیکھنے سے آنکھوں کو حیرت ہوتی ہے ۔ «ترجمون‏» مجھ کو قتل کرو ۔ «رهوا» تھما ہوا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «كالمهل‏» یعنی کالا تلچھٹ کی طرح ۔ اوروں نے کہا «تبع‏» سے یمن کے بادشاہ مراد ہیں ۔ ان کو «تبع‏» اس لیے کہا جاتا تھا کہ ایک کے بعد ایک بادشاہ ہوتا اور سایہ کو بھی «تبع‏» کہتے ہیں کیونکہ وہ سورج کے ساتھ رہتا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4820-2