کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”جہنمی کہیں گے اے داروغہ جہنم! تمہارا رب ہمیں موت دیدے، وہ کہے گا تم اسی حال میں پڑے رہو“۔
حدیث نمبر: 4819
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ : وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ سورة الزخرف آية 77 ، وَقَالَ قَتَادَةُ : مَثَلًا لِلْآخِرِينَ عِظَةً لِمَنْ بَعْدَهُمْ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : مُقْرِنِينَ : ضَابِطِينَ ، يُقَالُ فُلَانٌ مُقْرِنٌ لِفُلَانٍ ضَابِطٌ لَهُ وَالْأَكْوَابُ الْأَبَارِيقُ الَّتِي لَا خَرَاطِيمَ لَهَا ، أَوَّلُ الْعَابِدِينَ : أَيْ مَا كَانَ فَأَنَا أَوَّلُ الْآنِفِينَ وَهُمَا لُغَتَانِ رَجُلٌ عَابِدٌ وَعَبِدٌ وَقَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ ، وَيُقَالُ أَوَّلُ الْعَابِدِينَ الْجَاحِدِينَ مِنْ عَبِدَ يَعْبَدُ ، وَقَالَ قَتَادَةُ : فِي أُمِّ الْكِتَابِ جُمْلَةِ الْكِتَابِ أَصْلِ الْكِتَابِ .
مولانا داود راز
´ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو نے ، ان سے عطاء نے ، ان سے صفوان بن یعلیٰ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ آیت پڑھتے سنا «ونادوا يا مالك ليقض علينا ربك‏» ” اور یہ لوگ پکاریں گے کہ اے مالک ! تمہارا پروردگار ہمارا کام ہی تمام کر دے ۔ “ اور قتادہ نے کہا «مثلا للآخرين» یعنی پچھلوں کے لیے نصیحت ۔ دوسرے نے کہا «مقرنين‏» کا معنی قابو میں رکھنے والے ۔ عرب لوگ کہتے ہیں فلانا فلانے کا «مقرن» ہے یعنی اس پر اختیار رکھتا ہے ( اس کو قابو میں لایا ہے ) ۔ «أكواب» وہ کوزے جن میں ٹونٹی نہ ہو بلکہ منہ کھلا ہوا ہو جہاں سے آدمی چاہے پئے ۔ «ان کان للرحمن ولد» کا معنی یہ ہے کہ اس کی کوئی اولاد نہیں ہے ۔ ( اس صورت میں «ان نافيه» ہے ) «عابدين» سے «آنفين» مراد ہے ۔ یعنی سب سے پہلے میں اس سے «عار» کرتا ہوں ۔ اس میں دو لغت ہیں «عابد وعبد» اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کو «وقال الرسول يا رب‏» پڑھا ہے ۔ «أول العابدين» کے معنی سب سے پہلا انکار کرنے والا یعنی اگر خدا کی اولاد ثابت کرتے ہو تو میں اس کا سب سے پہلا انکاری ہوں ۔ اس صورت میں «عابدين» باب «عبد يعبد‏.‏» سے آئے گا اور قتادہ نے کہا «في أم الكتاب‏» کا معنی یہ ہے کہ مجموعی کتاب اور اصل کتاب ( یعنی لوح محفوظ میں ) ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4819
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة