کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ الزمر کی تفسیر میں۔
حدیث نمبر: Q4810
وَقَالَ مُجَاهِدٌ : أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ : يُجَرُّ عَلَى وَجْهِهِ فِي النَّارِ ، وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى : أَفَمَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ خَيْرٌ أَمْ مَنْ يَأْتِي آمِنًا : يَوْمَ الْقِيَامَةِ غَيْرَ ، ذِي عِوَجٍ : لَبْسٍ ، وَرَجُلًا سَلَمًا لِرَجُلٍ : مَثَلٌ لِآلِهَتِهِمُ الْبَاطِلِ وَالْإِلَهِ الْحَقِّ ، وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ : بِالْأَوْثَانِ خَوَّلْنَا أَعْطَيْنَا ، وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ : الْقُرْآنُ ، وَصَدَّقَ بِهِ : الْمُؤْمِنُ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يَقُولُ : هَذَا الَّذِي أَعْطَيْتَنِي عَمِلْتُ بِمَا فِيهِ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : مُتَشَاكِسُونَ : الرَّجُلُ الشَّكِسُ الْعَسِرُ لَا يَرْضَى بِالْإِنْصَافِ وَرَجُلًا سِلْمًا ، وَيُقَالُ : سَالِمًا صَالِحًا ، اشْمَأَزَّتْ : نَفَرَتْ ، بِمَفَازَتِهِمْ : مِنَ الْفَوْزِ ، حَافِّينَ : أَطَافُوا بِهِ مُطِيفِينَ بِحِفَافَيْهِ بِجَوَانِبِهِ ، مُتَشَابِهًا : لَيْسَ مِنَ الْاشْتِبَاهِ وَلَكِنْ يُشْبِهُ بَعْضُهُ بَعْضًا فِي التَّصْدِيقِ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ مجاہد نے کہا «يتقي بوجهه‏» سے یہ مراد ہے کہ منہ کے بل دوزخ میں گھسیٹا جائے گا جیسے اس آیت میں فرمایا «أفمن يلقى في النار خير أم من يأتي آمنا‏» الایۃ ۔ «ذي عوج‏» کے معنی شبہ والا ۔ «ورجلا سلما لرجل‏» یہ ایک مثال ہے مشرکین کے معبودان باطلہ کی اور معبود برحق کی ۔ «ويخوفونك بالذين من دونه‏» میں «من دونه‏» سے مراد بت ہیں ( یعنی مشرکین اپنے جھوٹے معبودوں سے تجھ کو ڈراتے ہیں ) ۔ «خولنا» کے معنی ہم نے دیا ۔ «والذي جاء بالصدق‏» سے قرآن مراد ہے اور «صدق‏» سے مسلمان مراد ہے جو قیامت کے دن پروردگار کے سامنے آ کر عرض کرے گا یہی قرآن ہے جو تو نے دنیا میں مجھ کو عنایت فرمایا تھا ، میں نے اس پر عمل کیا ۔ «متشاكسون‏» ، «شكس» سے نکلا ہے «شكس» بدمزاج تکراری آدمی کو کہتے ہیں جو انصاف کی بات پسند نہ کرے ۔ «سلما» اور «سالما» اچھے پورے آدمی کو کہتے ہیں ۔ «اشمأزت‏» کے معنی نفرت کرتے ہیں ، چڑتے ہیں ۔ «بمفازتهم‏» ، «فوز‏.‏‏» سے نکلا ہے مراد کامیابی ہے ۔ «حافين‏» کے معنی گردا گرد اس کے چاروں طرف ۔ «متشابها‏» ، «اشتباه» سے نہیں بلکہ «تشابه» سے نکلا ہے یعنی اس کی ایک آیت دوسری آیت کی تائید و تصدیق کرتی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4810