حدیث نمبر: 4806
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْعَوَّامِ ، قَالَ : " سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنِ السَّجْدَةِ فِي ص ؟ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 90 ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْجُدُ فِيهَا .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عوام بن حوشب نے کہ میں نے مجاہد سے سورۃ ص میں سجدہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ` یہ سوال ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی کیا گیا تھا تو انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی «أولئك الذين هدى الله فبهداهم اقتده» ” یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی تھی پس آپ بھی انہی کی ہدایت کی اتباع کریں ۔ “ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اس میں سجدہ کیا کرتے تھے ۔
حدیث نمبر: 4807
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ الْعَوَّامِ ، قَالَ : " سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنْ سَجْدَةٍ فِي ص ؟ فَقَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ أَيْنَ سَجَدْتَ ؟ فَقَالَ : أَوَ مَا تَقْرَأُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 90 ، فَكَانَ دَاوُدُ مِمَّنْ أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِ ، فَسَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَسَجَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز
´مجھ سے محمد بن عبداللہ ذہلی نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن عبید طنافسی نے ، ان سے عوام بن حوشب نے بیان کیا کہ میں نے مجاہد سے سورۃ ص میں سجدہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ` میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تھا کہ اس سورت میں آیت سجدہ کے لیے دلیل کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کیا تم ( سورت انعام ) میں یہ نہیں پڑھتے «ومن ذريته داود وسليمان» کہ ” اور ان کی نسل سے داؤد اور سلیمان ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے یہ ہدایت دی تھی ، سو آپ بھی ان کی ہدایت کی اتباع کریں ۔ “ داؤد علیہ السلام بھی ان میں سے تھے جن کی اتباع کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم تھا ( چونکہ داؤد علیہ السلام کے سجدہ کا اس میں ذکر ہے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس موقع پر سجدہ کیا ) ۔ «عجاب» کا معنی عجیب ۔ «القط» کہتے ہیں کاغذ کے ٹکڑے ( پرچے ) کو یہاں نیکیوں کا پرچہ مراد ہے ( یا حساب کا پرچہ ) ۔ اور مجاہد رحمہ اللہ نے کہا «في عزة» کا معنی یہ ہے کہ وہ شرارت و سرکشی کرنے والے ہیں ۔ «الملة الآخرة» سے مراد قریش کا دین ہے ۔ «اختلاق» سے مراد جھوٹ ۔ «الأسباب» آسمان کے راستے ، دروازے مراد ہیں ۔ «جند ما هنالك مهزوم» الایۃ سے قریش کے لوگ مراد ہیں ۔ «أولئك الأحزاب» سے اگلی امتیں مراد ہیں ۔ جن پر اللہ کا عذاب اترا ۔ «فواق» کا معنی پھرنا ، لوٹنا ۔ «عجل لنا قطنا» میں «قط» سے عذاب مراد ہے ۔ «اتخذناهم سخريا» ہم نے ان کو ٹھٹھے میں گھیر لیا تھا ۔ «أتراب» جوڑ والے ۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «أيد» کا معنی عبادت کی قوت ۔ «الأبصار» اللہ کے کاموں کو غور سے دیکھنے والے ۔ «حب الخير عن ذكر ربي» میں «عن من» کے معنی میں ہے ۔ «طفق مسحا» گھوڑوں کے پاؤں اور ایال پر محبت سے ہاتھ پھیرنا شروع کیا ۔ یا بقول بعض تلوار سے ان کو کاٹنے لگے ۔ «الأصفاد» کے معنی زنجیریں ۔