کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ یٰسین کی تفسیر۔
حدیث نمبر: Q4802
وَقَالَ مُجَاهِدٌ : فَعَزَّزْنَا : شَدَّدْنَا ، يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ : كَانَ حَسْرَةً عَلَيْهِمُ اسْتِهْزَاؤُهُمْ بِالرُّسُلِ ، أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ : لَا يَسْتُرُ ضَوْءُ أَحَدِهِمَا ضَوْءَ الْآخَرِ ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُمَا ذَلِكَ ، سَابِقُ النَّهَارِ : يَتَطَالَبَانِ حَثِيثَيْنِ ، نَسْلَخُ : نُخْرِجُ أَحَدَهُمَا مِنَ الْآخَرِ ، وَيَجْرِي كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ، مِنْ مِثْلِهِ : مِنَ الْأَنْعَامِ ، فَكِهُونَ : مُعْجَبُونَ ، جُنْدٌ مُحْضَرُونَ : عِنْدَ الْحِسَابِ ، وَيُذْكَرُ عَنْ عِكْرِمَةَ : الْمَشْحُونِ : الْمُوقَرُ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : طَائِرُكُمْ : مَصَائِبُكُمْ ، يَنْسِلُونَ : يَخْرُجُونَ ، مَرْقَدِنَا : مَخْرَجِنَا ، أَحْصَيْنَاهُ : حَفِظْنَاهُ مَكَانَتُهُمْ وَمَكَانُهُمْ وَاحِدٌ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور مجاہد نے کہا کہ «فعززنا‏» ای «شددنا‏» یعنی ہم نے زور دیا ۔ «يا حسرة على العباد‏» یعنی قیامت کے دن کافر اس پر افسوس کریں گے ( یا فرشتے افسوس کریں گے ) کہ انہوں نے دنیا میں پیغمبروں پر ٹھٹھا مارا ۔ «أن تدرك القمر‏» کا یہ مطلب ہے کہ سورج چاند کی روشنی نہیں چھپاتا اور نہ چاند سورج کی ۔ «سابق النهار‏» کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے کے پیچھے رواں دواں ہیں ۔ «نسلخ‏» ہم رات میں سے دن نکال لیتے ہیں اور دونوں چل رہے ہیں ۔ «وخلقنالهم من مثله» سے مراد چوپائے ہیں ۔ «فكهون‏» خوش و خرم ( یا دل لگی کر رہے ہوں گے ) «جند محضرون‏» یعنی حساب کے وقت حاضر کئے جائیں گے ۔ اور عکرمہ سے منقول ہے «مشحون‏» کا معنی بوجھل ، لدی ہوئی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «طائركم‏» یعنی تمہاری مصیبتیں ( یا تمہارا نصیبہ ) ۔ «ينسلون‏» کا معنی نکل پڑیں گے ۔ «مرقدنا‏» نکلنے کی جگہ سے ( خوابگاہ یعنی قبر سے ) ۔ «أحصيناه‏» ہم نے اس کو محفوظ کر لیا ہے ۔ «مكانتهم» اور «مكانهم» دونوں کا معنی ایک ہی ہے یعنی اپنے ٹھکانوں میں ، گھروں میں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4802