کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! آپ اپنے دل میں وہ بات چھپاتے رہے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا ہی تھا اور آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے، حالانکہ اللہ ہی اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے“۔
حدیث نمبر: 4787
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ : وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ سورة الأحزاب آية 37 نَزَلَتْ فِي شَأْنِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے معلی بن منصور نے بیان کیا ، اسے حماد بن زید نے کہا ہم سے ثابت نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` آیت «وتخفي في نفسك ما الله مبديه‏» ” اور آپ اپنے دل میں وہ چھپاتے رہے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا ۔ “ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کے معاملہ میں نازل ہوئی تھی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4787
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة