کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”اللہ کی بنائی ہوئی فطرت «خلق الله» میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں“۔
حدیث نمبر: Q4775
{خَلْقُ الأَوَّلِينَ} دِينُ الأَوَّلِينَ. وَالْفِطْرَةُ الإِسْلاَمُ.
مولانا داود راز
«خلق الله» سے اللہ کا دین مراد ہے ۔ آیت «ان هذا الا خلق الاولین» میں «خلق» سے دین مراد ہے اور «فطرت» سے اسلام مراد ہے ۔
حدیث نمبر: 4775
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ، ثُمَّ يَقُولُ : فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ سورة الروم آية 30 ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی ، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسی جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کیا تم نے انہیں ناک کان کٹا ہوا کوئی بچہ دیکھا ہے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فطرة الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم» ” اللہ کی اس فطرت کی اتباع کرو جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے ، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ، یہی سیدھا دین ہے ۔ “