حدیث نمبر: Q4774-2
قَالَ مُجَاهِدٌ : وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِينَ : ضَلَلَةً ، وَقَالَ غَيْرُهُ : الْحَيَوَانُ وَالْحَيُّ وَاحِدٌ ، فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ : عَلِمَ اللَّهُ ذَلِكَ إِنَّمَا هِيَ بِمَنْزِلَةِ ، فَلِيَمِيزَ اللَّهُ كَقَوْلِهِ : لِيَمِيزَ اللَّهُ الْخَبِيثَ : مِنَ الطَّيِّبِ ، أَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ : أَوْزَارًا مَعَ أَوْزَارِهِمْ.
مولانا داود راز
مجاہد رحمہ اللہ نے کہا کہ «وكانوا مستبصرين» کا یہ معنی ہے کہ وہ گمراہ تھے ( اور اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے تھے ) اوروں نے کہا کہ حیوان مراد ہے اور اس کی واحد «حيي» ہے ۔ «فليعلمن الله» میں علم سے تمیز یعنی کھول کر بتا دینا مراد ہے جیسے «ليميز الله الخبيث» میں ہے ۔ «أثقالا مع أثقالهم» کا مطلب یعنی اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسروں کے بوجھ بھی اٹھائیں گے ۔