کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ خبردار پھر اس قسم کی حرکت کبھی نہ کرنا“۔
حدیث نمبر: 4755
4385 4385 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " جَاءَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا ، قُلْتُ : أَتَأْذَنِينَ لِهَذَا ؟ قَالَتْ : أَوَلَيْسَ قَدْ أَصَابَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ ، قَالَ سُفْيَانُ : تَعْنِي ذَهَابَ بَصَرِهِ ، فَقَالَ : حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ قَالَتْ : لَكِنْ أَنْتَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابوالضحیٰ نے ، ان سے مسروق نے کہ` عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کرنے کی حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی ۔ میں نے عرض کیا کہ آپ انہیں بھی اجازت دیتی ہیں ( حالانکہ انہوں نے بھی آپ پر تہمت لگانے والوں کا ساتھ دیا تھا ) اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ۔ کیا انہیں اس کی ایک بڑی سزا نہیں ملی ہے ۔ سفیان نے کہا کہ ان کا اشارہ ان کے نابینا ہو جانے کی طرف تھا ۔ پھر حسان نے یہ شعر پڑھا ۔ ” عفیفہ اور بڑی عقلمند ہیں کہ ان کے متعلق کسی کو کوئی شبہ بھی نہیں گزر سکتا ۔ وہ غافل اور پاکدامن عورتوں کا گوشت کھانے سے اکمل پرہیز کرتی ہیں ۔ “ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ، لیکن تو نے ایسا نہیں کیا ۔