کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”اللہ کا بڑا بھاری عذاب تو تم کو اس وقت پکڑتا جب تم اپنی زبانوں سے تہمت کو منہ در منہ بیان کر رہے تھے اور اپنی زبانوں سے وہ کچھ کہہ رہے تھے جس کی تمہیں کوئی تحقیق نہ تھی اور تم اسے ہلکا سمجھ رہے تھے، حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات تھی“۔
حدیث نمبر: 4752
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقْرَأُ : " 0 إِذْ تَلِقُونَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ 0 4 " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ، انہیں ابن جریج نے خبر دی کہ ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا` وہ مذکورہ بالا آیت «إذ تلقونه بألسنتكم» ( جب تم اپنی زبانوں سے اسے منہ در منہ نقل کر رہے تھے ) پڑھ رہی تھیں ۔