کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی تو جس شغل (تہمت) میں تم پڑے تھے اس میں تم پر سخت عذاب نازل ہوتا“۔
حدیث نمبر: Q4751
وَقَالَ مُجَاهِدٌ : تَلَقَّوْنَهُ : يَرْوِيهِ بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ ، تُفِيضُونَ : تَقُولُونَ .
مولانا داود راز
مجاہد نے کہا کہ «تلقونه» کا مطلب یہ ہے کہ تم ایک دوسرے سے منہ در منہ اس بات کو نقل کرنے لگے ۔ لفظ «تفيضون» ( جو سورۃ یونس میں ہے ) بمعنی «تقولون» کے ہے ، اس کا معنی تم کہتے تھے ۔
حدیث نمبر: 4751
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أُمِّ رُومَانَ أُمِّ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " لَمَّا رُمِيَتْ عَائِشَةُ خَرَّتْ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سلیمان بن کثیر نے خبر دی ، انہیں حصین بن عبدالرحمٰن نے ، انہیں ابووائل نے ، انہیں مسروق نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ کی والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` جب عائشہ نے تہمت کی خبر سنی تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑی تھی ۔