کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو اگر وہ مرد سچا ہے“۔
حدیث نمبر: 4748
حَدَّثَنَا مُقَدَّمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمِّي الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : أَنَّ رَجُلًا رَمَى امْرَأَتَهُ ، فَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَلَاعَنَا كَمَا قَالَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَضَى بِالْوَلَدِ لِلْمَرْأَةِ ، وَفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے مقدم بن محمد بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے چچا قاسم بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے ، قاسم نے عبیداللہ سے سنا تھا اور عبیداللہ نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ` ایک صاحب نے اپنی بیوی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک غیر مرد کے ساتھ تہمت لگائی اور کہا کہ عورت کا حمل میرا نہیں ہے ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے دونوں میاں بیوی نے اللہ کے فرمان کے مطابق لعان کیا ۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ کے بارے میں فیصلہ کیا کہ وہ عورت ہی کا ہو گا اور لعان کرنے والے دونوں میاں بیوی میں جدائی کروا دی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4748
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة