حدیث نمبر: Q4724
وَقَالَ مُجَاهِدٌ : تَقْرِضُهُمْ : تَتْرُكُهُمْ ، وَكَانَ لَهُ ثُمُرٌ : ذَهَبٌ وَفِضَّةٌ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : جَمَاعَةُ الثَّمَرِ ، بَاخِعٌ ، مُهْلِكٌ ، أَسَفًا : نَدَمًا الْكَهْفُ الْفَتْحُ فِي الْجَبَلِ ، وَالرَّقِيمُ الْكِتَابُ مَرْقُومٌ مَكْتُوبٌ مِنَ الرَّقْمِ ، رَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ : أَلْهَمْنَاهُمْ صَبْرًا ، لَوْلَا أَنْ رَبَطْنَا عَلَى قَلْبِهَا شَطَطًا : إِفْرَاطًا الْوَصِيدُ الْفِنَاءُ جَمْعُهُ ، وَصَائِدُ وَوُصُدٌ ، وَيُقَالُ الْوَصِيدُ الْبَابُ ، مُؤْصَدَةٌ : مُطْبَقَةٌ آصَدَ الْبَابَ ، وَأَوْصَدَ ، بَعَثْنَاهُمْ : أَحْيَيْنَاهُمْ ، أَزْكَى : أَكْثَرُ ، وَيُقَالُ : أَحَلُّ ، وَيُقَالُ : أَكْثَرُ رَيْعًا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أُكْلَهَا وَلَمْ تَظْلِمْ : لَمْ تَنْقُصْ ، وَقَالَ سَعِيدٌ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : الرَّقِيمُ اللَّوْحُ مِنْ رَصَاصٍ كَتَبَ عَامِلُهُمْ أَسْمَاءَهُمْ ، ثُمَّ طَرَحَهُ فِي خِزَانَتِهِ ، فَضَرَبَ اللَّهُ عَلَى آذَانِهِمْ فَنَامُوا ، وَقَالَ غَيْرُهُ : وَأَلَتْ تَئِلُ تَنْجُو ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : مَوْئِلًا : مَحْرِزًا ، لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا : لَا يَعْقِلُونَ.
مولانا داود راز
مجاہد نے کہا «تقرضهم» کا معنی ان کو چھوڑ دیتا تھا ، کترا جاتا تھا ۔ «وكان له ثمر» میں «ثمر» سے مراد سونا روپیہ ہے ۔ دوسروں نے کہا «ثمر» یعنی پھل کی جمع ہے ۔ «باخع» کا معنی ہلاک کرنے والا ۔ «أسفا» ندامت اور رنج سے ۔ «كهف» پہاڑ کا کھوہ یا غار ۔ «الرقيم» کے معنی لکھا ہوا بمعنی «مرقوم» یہ اسم مفعول کا صیغہ ہے «رقم» سے ۔ «ربطنا على قلوبهم» ہم نے ان کے دلوں میں صبر ڈالا جیسے سورۃ قصص میں ہے ۔ «لولا أن ربطنا على قلبها» ( وہاں بھی صبر کے معنی ہیں ) ۔ «شططا» حد سے بڑھ جانا ۔ «مرفقا» جس چیز پر تکیہ لگائے ۔ «تزاور» زور سے نکلا ہے یعنی جھک جاتا تھا اسی سے «ازور» ہے بہت جھکنے والا ۔ «فجوة» کشادہ جگہ اس کی جمع «فجوات» اور «فجاء» آتی ہے جیسے «زكوة» کی جمع «زكاء» ہے ۔ اور «وصيدا» آنگن ، صحن اس کی جمع «وصائد» اور «وصد» ہے ۔ بعضوں نے کہا «وصيد» کے معنی دروازہ ۔ «مؤصدة» کے معنی بند کی ہوئی عرب لوگ کہتے ہیں «آصد الباب» یعنی اس نے دروازہ بند کر دیا ۔ «بعثناهم» ہم نے ان کو زندہ کیا کھڑا کر دیا ۔ «أزكى طعاما» اور «أوصد الباب» یعنی جو بستی کی اکثر خوراک ہے یا جو کھانا خوب حلال کا ہو ، خوب پک کر بڑھ گیا ہو ۔ «أكلها» اس کا میوہ ، یہ ابن عباس نے کہا ہے ۔ «ولم تظلم» میوہ کم نہیں ہوا ۔ اور سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ۔ «رقيم» وہ ایک تختی ہے سیسے کی اس پر اس وقت کے حاکم نے اصحاب کہف کے نام لکھ کر اپنے خزانے میں ڈال دی تھی ۔ «فضرب الله على آذانهم» اللہ نے ان کے کان بند کر دیئے ۔ ( ان پر پردہ ڈال دیا ) وہ سو گئے ۔ ابن عباس کے سوا اور لوگوں نے کہا ۔ «موئلا» وال «يئل» سے نکلا ہے ۔ یعنی نجات پائے اور مجاہد نے کہا «موئل» محفوظ مقام ۔ «لا يستطيعون سمعا» کے معنی وہ عقل نہیں رکھتے ۔