کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”آپ کہئے تم جن کو اللہ کے سوا معبود قرار دے رہے ہو، ذرا ان کو پکارو تو سہی، سو نہ وہ تمہاری کوئی تکلیف ہی دور کر سکتے ہیں اور نہ وہ (اسے) بدل ہی سکتے ہیں“۔
حدیث نمبر: 4714
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ سورة الإسراء آية 57 ، قَالَ : " كَانَ نَاسٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعْبُدُونَ نَاسًا مِنَ الْجِنِّ ، فَأَسْلَمَ الْجِنُّ ، وَتَمَسَّكَ هَؤُلَاءِ بِدِينِهِمْ " . زَادَ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ سورة الإسراء آية 56 .
مولانا داود راز
´مجھ سے عمرو بن علی بن فلاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے کہا ہم سے سفیان نے ، کہا مجھ سے سلیمان اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے عبداللہ بن معمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے` ( آیت ) «إلى ربهم الوسيلة» کا شان نزول یہ ہے کہ کچھ لوگ جنوں کی عبادت کرتے تھے ، لیکن وہ جِن بعد میں مسلمان ہو گئے اور یہ مشرک ( کم بخت ) ان ہی کی پرستش کرتے جاہلی شریعت پر قائم رہے ۔ عبیداللہ اشجعی نے اس حدیث کو سفیان سے روایت کیا اور ان سے اعمش نے بیان کیا ، اس میں یوں ہے کہ اس آیت «قل ادعوا الذين زعمتم» کا شان نزول یہ ہے آخر تک ۔