کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت «إذا أردنا أن نهلك قرية أمرنا مترفيها» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4711
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا نَقُولُ لِلْحَيِّ إِذَا كَثُرُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَمِرَ بَنُو فُلَانٍ " . حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَقَالَ : أَمَرَ .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا ہم کو منصور نے خبر دی ، انہیں ابووائل نے اور ان سے عبداللہ نے بیان کیا کہ` جب کسی قبیلہ کے لوگ بڑھ جاتے تو زمانہ جاہلیت میں ہم ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ «أمر بنو فلان‏.‏» ( یعنی فلاں کا خاندان بہت بڑھ گیا ) ۔ ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا اور اس روایت میں انہوں نے بھی لفظ «أمر‏.‏» کا ذکر کیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4711
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة