حدیث نمبر: Q4707
رُوحُ الْقُدُسِ ، جِبْرِيلُ ، نَزَلَ بِهِ ، الرُّوحُ الْأَمِينُ ، فِي ضَيْقٍ يُقَالُ : أَمْرٌ ضَيْقٌ وَضَيِّقٌ مِثْلُ هَيْنٍ وَهَيِّنٍ ، وَلَيْنٍ وَلَيِّنٍ ، وَمَيْتٍ وَمَيِّتٍ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : تَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ تَتَهَيَّأُ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ، لَا يَتَوَعَّرُ عَلَيْهَا مَكَانٌ سَلَكَتْهُ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فِي تَقَلُّبِهِمْ : اخْتِلَافِهِمْ ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ : تَمِيدُ تَكَفَّأُ ، مُفْرَطُونَ : مَنْسِيُّونَ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ : هَذَا مُقَدَّمٌ وَمُؤَخَّرٌ ، وَذَلِكَ أَنَّ الِاسْتِعَاذَةَ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ وَمَعْنَاهَا الِاعْتِصَامُ بِاللَّهِ ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : تُسِيمُونَ : تَرْعَوْنَ ، شَاكِلَتِهِ : نَاحِيَتِهِ ، قَصْدُ السَّبِيلِ : الْبَيَانُ الدِّفْءُ مَا اسْتَدْفَأْتَ ، تُرِيحُونَ : بِالْعَشِيِّ وَتَسْرَحُونَ بِالْغَدَاةِ ، بِشِقِّ : يَعْنِي الْمَشَقَّةَ ، عَلَى تَخَوُّفٍ : تَنَقُّصٍ ، الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً : وَهِيَ تُؤَنَّثُ وَتُذَكَّرُ ، وَكَذَلِكَ النَّعَمُ الْأَنْعَامُ جَمَاعَةُ النَّعَمِ ، أَكْنَانٌ : وَاحِدُهَا كِنٌّ مِثْلُ حِمْلٍ وَأَحْمَالٍ ، سَرَابِيلَ : قُمُصٌ ، تَقِيكُمُ الْحَرَّ : وَأَمَّا سَرَابِيلَ تَقِيكُمْ بَأْسَكُمْ ، فَإِنَّهَا الدُّرُوعُ ، دَخَلًا بَيْنَكُمْ : كُلُّ شَيْءٍ لَمْ يَصِحَّ فَهُوَ دَخَلٌ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : حَفَدَةً : مَنْ وَلَدَ الرَّجُلُ السَّكَرُ مَا حُرِّمَ مِنْ ثَمَرَتِهَا وَالرِّزْقُ الْحَسَنُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : عَنْ صَدَقَةَ ، أَنْكَاثًا : هِيَ خَرْقَاءُ كَانَتْ إِذَا أَبْرَمَتْ غَزْلَهَا نَقَضَتْهُ ، وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : الْأُمَّةُ مُعَلِّمُ الْخَيْرِ ، وَالْقَانِتُ الْمُطِيعُ
مولانا داود راز
«نزل به الروح الأمين» میں «روح الأمين» سے «روح القدس» جبرائیل مراد ہیں ۔ «في ضيق» عرب لوگ کہتے ہیں «أمر ضيق» اور «ضيق» جیسے «هين» اور «وهين» اور «لين» اور «ولين» اور «ميت» اور «وميت.» ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «في تقلبهم» کا معنی ان کے اختلاف میں ۔ اور مجاہد نے کہا «تميد» کا معنی جھک جائے ، الٹ جائے ۔ «مفرطون» کا معنی بھلائے گئے ۔ دوسرے لوگوں نے کہا «فإذا قرأت القرآن فاستعذ بالله» اس آیت میں عبارت آگے پیچھے ہو گئی ہے ۔ کیونکہ «اعوذ بالله» قرآت سے پہلے پڑھنا چاہئے ۔ «لاستعاذة» کے معنی اللہ سے پناہ مانگنا ۔ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «تسيمون» کا معنی چراتے ہو ۔ «شاكلة» اپنے اپنے طریق پر ۔ «قصد السبيل» سچے راستے کا بیان کرنا ۔ «الدفء» ہر وہ چیز جس سے گرمی حاصل کی جائے ، سردی دفع ہو ۔ «تريحون» شام کو لاتے ہو ۔ «تسرحون» صبح کو چرانے لے جاتے ہو ۔ «بشق» تکلیف اٹھا کر محنت مشقت سے ۔ «على تخوف» نقصان کر کے ۔ «وان لكم في الأنعام لعبرة» میں «الأنعام» ، «نعم» کی جمع ہے ۔ مذکر مؤنث دونوں کو «الأنعام» اور «نعم» کہتے ہیں ۔ «سرابيل تقيكم الحر» میں «سرابيل» سے کرتے اور «سرابيل تقيكم بأسكم» میں «سرابيل» سے زرہیں مراد ہیں ۔ «دخلا بينكم» جو ناجائز بات ہو اس کو «دخل.» کہتے ہیں ۔ جیسے ( «دخل.» یعنی خیانت ) ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «حفدة» آدمی کی اولاد ۔ «السكر» نشے آور مشروب جو حرام ہے ۔ «رزق الحسنا» جس کو اللہ نے حلال کیا ۔ اور سفیان بن عیینہ نے «صدقة» ابوالہذیل سے نقل کیا ۔ «أنكاثا» ٹکڑے ٹکڑے یہ ایک عورت کا ذکر ہے اس کا نام «خرقاء» تھا ( جو مکہ میں رہتی تھی ) وہ دن بھر سوت کاتتی پھر توڑ توڑ کر پھینک دیتی ۔ ابن مسعود نے کہا «لأمة» کا معنی لوگوں کو اچھی باتیں سکھانے والا اور «قانت» کے معنی «مطيع» اور فرمانبردار کے ہیں ۔