کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کے بدلے کفر کیا“۔
حدیث نمبر: Q4700
أَلَمْ تَرَ : أَلَمْ تَعْلَمْ كَقَوْلِهِ ، أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا : الْبَوَارُ الْهَلَاكُ بَارَ يَبُورُ ، قَوْمًا بُورًا : هَالِكِينَ .
مولانا داود راز
«ألم تر» کا معنی «ألم تعلم» یعنی کیا تو نے نہیں جانا ۔ «ألم تر كيف» ، «ألم تر إلى الذين خرجوا» میں ہے ۔ «البوار» ای «الهلاك» ۔ «بورا» کا معنی ہلاکت ہے جو «بار يبور» کا مصدر ہے ۔ «قوما بورا» کے معنی ہلاک ہونے والی قوم کے ہیں ۔
حدیث نمبر: 4700
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ : أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا سورة إبراهيم آية 28 ، قَالَ : " هُمْ كُفَّارُ أَهْلِ مَكَّةَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے ، ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ` آیت «ألم تر إلى الذين بدلوا نعمة الله كفرا» میں کفار سے اہل مکہ مراد ہیں ۔