کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”یعنی اللہ کو علم ہے اس کا جو کچھ کسی مادہ کے حمل میں ہوتا ہے اور جو کچھ ان کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے“۔
حدیث نمبر: Q4697
غِيضَ : نُقِصَ .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ «غيض» ای «نقص» کم کیا گیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4697
حدیث نمبر: 4697
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَفَاتِحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ : لَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا يَعْلَمُ مَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا يَعْلَمُ مَتَى يَأْتِي الْمَطَرُ أَحَدٌ إِلَّا اللَّهُ ، وَلَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ، وَلَا يَعْلَمُ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا اللَّهُ " .
مولانا داود راز
´مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیب کی پانچ کنجیاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہونے والا ہے ، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ عورتوں کے رحم میں کیا کمی بیشی ہوتی رہتی ہے ، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب برسے گی ، کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کی موت کہاں ہو گی اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہو گی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4697
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة