کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”اور گواہ کہیں گے کہ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا، خبردار رہو کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر“۔
حدیث نمبر: Q4685
وَاحِدُ الأَشْهَادِ شَاهِدٌ مِثْلُ صَاحِبٍ وَأَصْحَابٍ.
مولانا داود راز
«لأشهاد» ، «شاهد» کی جمع ہے جیسے «صاحب» کی جمع «أصحاب» ہے ۔
حدیث نمبر: 4685
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَهِشَامٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ، قَالَ : بَيْنَا ابْنُ عُمَرَ يَطُوفُ ، إِذْ عَرَضَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَوْ قَالَ : يَا ابْنَ عُمَرَ ، سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّجْوَى ، فَقَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يُدْنَى الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ " ، وَقَالَ هِشَامٌ : يَدْنُو الْمُؤْمِنُ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ ، فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ ، تَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا ، يَقُولُ : أَعْرِفُ ، يَقُولُ : رَبِّ أَعْرِفُ ، مَرَّتَيْنِ ، فَيَقُولُ : سَتَرْتُهَا فِي الدُّنْيَا ، وَأَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ، ثُمَّ تُطْوَى صَحِيفَةُ حَسَنَاتِهِ ، وَأَمَّا الْآخَرُونَ أَوِ الْكُفَّارُ ، فَيُنَادَى عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ ، هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ ، أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ سورة هود آية 18 ، وَقَالَ شَيْبَانُ : عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ اور ہشام بن ابی عبداللہ دستوائی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے صفوان بن محرز نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما طواف کر رہے تھے کہ` ایک شخص نام نامعلوم آپ کے سامنے آیا اور پوچھا : اے ابوعبدالرحمٰن ! یا یہ کہا کہ اے ابن عمر ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کے متعلق کچھ سنا ہے ( جو اللہ تعالیٰ مؤمنین سے قیامت کے دن کرے گا ) ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ مومن اپنے رب کے قریب لایا جائے گا ۔ اور ہشام نے «يدنو المؤمن» ( بجائے «يدنى المؤمن» کہا ) مطلب ایک ہی ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا ایک جانب اس پر رکھے گا اور اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ فلاں گناہ تجھے یاد ہے ؟ بندہ عرض کرے گا ، یاد ہے ، میرے رب ! مجھے یاد ہے ، دو مرتبہ اقرار کرے گا ۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تمہارے گناہوں کو چھپائے رکھا اور آج بھی تمہاری مغفرت کروں گا ۔ پھر اس کی نیکیوں کا دفتر لپیٹ دیا جائے گا ۔ لیکن دوسرے لوگ یا ( یہ کہا کہ ) کفار تو ان کے متعلق محشر میں اعلان کیا جائے گا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا ۔ اور شیبان نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے کہ ہم سے صفوان نے بیان کیا ۔