حدیث نمبر: Q4680-2
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {فَاخْتَلَطَ} فَنَبَتَ بِالْمَاءِ مِنْ كُلِّ لَوْنٍ. وَ{قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ هُوَ الْغَنِيُّ}. وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ: {أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ} مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مُجَاهِدٌ خَيْرٌ. يُقَالُ: {تِلْكَ آيَاتُ} يَعْنِي هَذِهِ أَعْلاَمُ الْقُرْآنِ وَمِثْلُهُ. {حَتَّى إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِمْ} الْمَعْنَى بِكُمْ. {دَعْوَاهُمْ} دُعَاؤُهُمْ {أُحِيطَ بِهِمْ} دَنَوْا مِنَ الْهَلَكَةِ {أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ} فَاتَّبَعَهُمْ وَأَتْبَعَهُمْ وَاحِدٌ. {عَدْوًا} مِنَ الْعُدْوَانِ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: {يُعَجِّلُ اللَّهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَيْرِ} قَوْلُ الإِنْسَانِ لِوَلَدِهِ وَمَالِهِ إِذَا غَضِبَ اللَّهُمَّ لاَ تُبَارِكْ فِيهِ وَالْعَنْهُ {لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ} لأُهْلِكُ مَنْ دُعِيَ عَلَيْهِ وَلأَمَاتَهُ. {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى} مِثْلُهَا حُسْنَى {وَزِيَادَةٌ} مَغْفِرَةٌ. {الْكِبْرِيَاءُ} الْمُلْكُ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ «فاختلط» کا معنی یہ ہے کہ پانی برسنے کی وجہ سے زمین سے ہر قسم کا سبزہ اگا ۔ یعنی عیسائی کہتے ہیں کہ اللہ نے ایک بیٹا بنا رکھا ہے ۔ سبحان اللہ ، وہ بےنیاز ہے اور زید بن اسلم نے کہا کہ «أن لهم قدم صدق‏» سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں ۔ اور مجاہد نے بیان کیا کہ اس سے بھلائی مراد ہے ۔ «تلك آيات‏» میں «تلك» جو حاضر کے لیے ہے مراد اس سے غائب ہے ۔ یعنی یہ قرآن کی نشانیاں ہیں ، اسی طرح اس آیت ۔ «حتى إذا كنتم في الفلك وجرين بهم‏» میں «بهم‏» سے «بكم‏.‏» مراد ہے یعنی غائب سے حاضر مراد ہے ۔ «دعواهم‏» ای «دعاؤهم‏» ان کی دعا «أحيط بهم‏» یعنی ہلاکت و بربادی کے قریب آ گئے ، جیسے «أحاطت به خطيئته‏» یعنی گناہوں نے اس کو سب طرف سے گھیر لیا ۔ «فاتبعهم» اور «وأتبعهم» کے ایک معنی ہیں ۔ «عدوا‏» ، «عدوان‏.‏» سے نکلا ہے ۔ آیت «يعجل الله للناس الشر استعجالهم بالخير‏» کے متعلق مجاہد نے کہا کہ اس سے مراد غصہ کے وقت آدمی کا اپنی اولاد اور اپنے مال کے متعلق یہ کہنا کہ اے اللہ ! اس میں برکت نہ فرما اور اس کو اپنی رحمت سے دور کر دے تو ( بعض اوقات ان کی یہ دعا نہیں لگتی ) کیونکہ ان کی تقدیر کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہوتا ہے اور ( بعض اوقات ) جس پر بددعا کی جاتی ہے ، وہ ہلاک و برباد ہو جاتے ہیں ۔ «للذين أحسنوا الحسنى‏» میں مجاہد نے کہا «زيادة‏» سے مغفرت اور اللہ کی رضا مندی مراد ہے دوسرے لوگوں نے کہا «وزيادة‏» سے اللہ کا دیدار مراد ہے ۔ «الكبرياء‏» سے سلطنت اور بادشاہی مراد ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4680-2