کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: آیت کی تفسیر ”اور جو لوگ کہ یہودی ہوئے ان پر ناخن والے کل جانور ہم نے حرام کر دیئے تھے اور گائے اور بکری میں سے ہم نے ان پر ان دونوں کی چربیاں حرام کی تھیں“ آخر آیت تک۔
حدیث نمبر: Q4633
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُلَّ ذِي ظُفُرٍ : الْبَعِيرُ وَالنَّعَامَةُ ، الْحَوَايَا : الْمَبْعَرُ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : هَادُوا : صَارُوا يَهُودًا ، وَأَمَّا قَوْلُهُ : هُدْنَا : تُبْنَا هَائِدٌ تَائِبٌ .
مولانا داود راز
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ «كل ذي ظفر» سے مراد اونٹ اور شتر مرغ ہیں ۔ لفظ «الحوايا» بمعنی اوجھڑی کے ہے اور ان کے سوا ایک اور نے کہا کہ «هادوا» کے معنی میں کہ وہ یہودی ہو گئے ۔ لیکن سورۃ الاعراف میں لفظ «هدنا» کا معنی یہ ہے کہ ہم نے توبہ کی اسی سے لفظ «هائد» کہتے ہیں توبہ کرنے والے کو ۔
حدیث نمبر: 4633
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، قَالَ عَطَاءٌ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، لَمَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا جَمَلُوهُ ، ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوهَا " ، وَقَالَ أَبُو عَاصِمٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، كَتَبَ إِلَيَّ عَطَاءٌ ، سَمِعْتُ جَابِرًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .s
مولانا داود راز
´ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی حبیب نے کہ عطاء نے بیان کیا کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اللہ یہودیوں کو غارت کرے ، جب اللہ تعالیٰ نے ان پر مردہ جانوروں کی چربی حرام کر دی تو اس کا تیل نکال کر اسے بیچنے اور کھانے لگے ۔ اور ابوعاصم نے بیان کیا ، ان سے عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے یزید نے بیان کیا ، انہیں عطاء نے لکھا تھا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔