حدیث نمبر: Q4606-2
حُرُمٌ : وَاحِدُهَا حَرَامٌ ، فَبِمَا نَقْضِهِمْ : بِنَقْضِهِمْ ، الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ : جَعَلَ اللَّهُ ، تَبُوءُ تَحْمِلُ دَائِرَةٌ : دَوْلَةٌ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : الْإِغْرَاءُ التَّسْلِيطُ ، أُجُورَهُنَّ سورة المائدة آية 5 : مُهُورَهُنَّ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ «حرم‏» ، «حرام » کی جمع ہے ( یعنی احرام باندھے ہوئے ہو ) ۔ «فبما نقضهم‏» ، «ميثاقهم» سے یہ مراد ہے کہ اللہ نے جو حکم ان کو دیا تھا کہ بیت المقدس میں داخل ہو جاؤ وہ نہیں بجا لائے ۔ «تبوء‏ باثمى» یعنی تو میرا گناہ اٹھا لے گا ۔ «دائرة‏» کے معنی زمانہ کی گردش ۔ اور دوسرے لوگوں نے کہا «إغراء» کا معنی مسلط کرنا ، ڈال دینا ۔ «أجورهن‏» یعنی ان کے مہر ۔ «المهيمن» کا معنی امانتدار ( نگہبان ) قرآن گویا اگلی آسمانی کتابوں کا محافظ ہے ۔ سفیان ثوری نے کہا سارے قرآن میں اس سے زیادہ کوئی آیت مجھ پر سخت نہیں ہے وہ آیت یہ ہے «لستم على شيء حتى تقيموا التوراة ، والإنجيل» الخ ( کیونکہ اس آیت میں یہ ہے کہ جب تک کوئی اللہ کی کتاب کے موافق سب حکموں پر مضبوطی سے عمل نہ کرے ، اس وقت تک اس کا دین و ایمان لائق اعتبار نہیں ہے ) ۔ «مخمصة» کے معنی بھوک ۔ «من أحياها» یعنی جس نے ناحق آدمی کا خون کرنا حرام سمجھا گویا سب آدمی اس کی وجہ سے زندہ رہے ۔ «شرعة ومنهاجا» سے راستہ اور طریقہ مراد ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: Q4606-2