کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی میراث) کے بارے میں وصیت کرتا ہے“۔
حدیث نمبر: 4577
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : "عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فِي بَنِي سَلِمَةَ مَاشِيَيْنِ ، فَوَجَدَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَعْقِلُ شَيْئًا ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ، ثُمَّ رَشَّ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ ، فَقُلْتُ : مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي مَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَنَزَلَتْ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ سورة النساء آية 11 " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا کہ انہیں ابن جریج نے خبر دی ، بیان کیا کہ مجھے ابن منکدر نے خبر دی اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو سلمہ تک پیدل چل کر میری عیادت کے لیے تشریف لائے ۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مجھ پر بے ہوشی طاری ہے ، اس لیے آپ نے پانی منگوایا اور وضو کر کے اس کا پانی مجھ پر چھڑکا ، میں ہوش میں آ گیا ، پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کا کیا حکم ہے ، میں اپنے مال کا کیا کروں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «يوصيكم الله في أولادكم‏» کہ ” اللہ تمہیں تمہاری اولاد ( کی میراث ) کے بارے میں حکم دیتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4577
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة