کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”اور جب تقسیم ورثہ کے وقت کچھ عزیز قرابت دار اور بچے اور یتیم اور مسکین لوگ موجود ہوں تو ان کو بھی کچھ دے دیا کرو“ آخر آیت تک۔
حدیث نمبر: 4576
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ سورة النساء آية 8 ، قَالَ : " هِيَ مُحْكَمَةٌ وَلَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ " . تَابَعَهُ سَعِيدٌ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ .
مولانا داود راز
´ہم سے احمد بن حمید نے بیان کیا ، ہم کو عبیداللہ اشجعی نے خبر دی ، انہیں سفیان ثوری نے ، انہیں ابواسحاق شیبانی نے ، انہیں عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے` آیت «وإذا حضر القسمة أولو القربى واليتامى والمساكين‏» ” اور جب تقسیم کے وقت عزیز و اقارب اور یتیم اور مسکین موجود ہوں ۔ “ کے متعلق فرمایا کہ یہ محکم ہے ، منسوخ نہیں ہے ۔ عکرمہ کے ساتھ اس حدیث کو سعید بن جبیر نے بھی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4576
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة