کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”اے ہمارے رب! تو نے جسے دوزخ میں داخل کر دیا، اسے تو نے واقعی ذلیل و رسوا کر دیا اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں ہے“۔
حدیث نمبر: 4571
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ : " أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهْيَ خَالَتُهُ ، قَالَ : فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَصَفَ اللَّيْلُ ، أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ ، أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدَيْهِ ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي ، فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي ، وَأَخَذَ بِأُذُنِي بِيَدِهِ الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَوْتَرَ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے مخرمہ بن سلیمان نے ، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب نے اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ` ایک رات وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہ گئے جو ان کی خالہ تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں بستر کے عرض میں لیٹا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی طول میں لیٹے ، پھر آپ سو گئے اور آدھی رات میں یا اس سے تھوڑی دیر پہلے یا بعد میں آپ بیدار ہوئے اور چہرہ پر ہاتھ پھیر کر نیند کو دور کیا ۔ پھر سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتوں کی تلاوت کی ۔ اس کے بعد آپ اٹھ کر مشکیزے کے قریب گئے جو لٹکا ہوا تھا ۔ اس کے پانی سے آپ نے وضو بہت ہی اچھی طرح سے پورے آداب کے ساتھ کیا اور نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ میں نے بھی آپ ہی کی طرح ( وضو وغیرہ ) کیا اور نماز کے لیے آپ کے بازو میں جا کر کھڑا ہو گیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور اسی ہاتھ سے ( بطور شفقت ) میرا کان پکڑ کر ملنے لگے ، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ، پھر دو رکعت پڑھی ، پھر دو رکعت پڑھی ، پھر دو رکعت پڑھی ، پھر دو رکعت پڑھی اور پھر دو رکعت پڑھی اور آخر میں وتر کی نماز پڑھی ۔ اس سے فارغ ہو کر آپ لیٹ گئے ، پھر جب مؤذن آیا تو آپ اٹھے اور دو ہلکی ( فجر کی سنت ) رکعتیں پڑھیں اور نماز فرض کے لیے باہر تشریف ( مسجد میں ) لے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4571
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة