کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آیت کی تفسیر ”لیکن اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو، اس پر ایک مسکین کا کھلانا بطور فدیہ ضروری ہے“۔
حدیث نمبر: 4517
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ , قَالَ : قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْكُوفَةِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ ، فَقَالَ : حُمِلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي , فَقَالَ : " مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْجَهْدَ قَدْ بَلَغَ بِكَ هَذَا أَمَا تَجِدُ شَاةً ؟ " قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ وَاحْلِقْ رَأْسَكَ " ، فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَهْيَ لَكُمْ عَامَّةً .
مولانا داود راز
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن اصبہانی نے ، کہا میں نے عبداللہ بن معقل سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اس مسجد میں حاضر ہوا ، ان کی مراد کوفہ کی مسجد سے تھی اور ان سے روزے کے فدیہ کے متعلق پوچھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے احرام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوگ لے گئے اور جوئیں ( سر سے ) میرے چہرے پر گر رہی تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا خیال یہ نہیں تھا کہ تم اس حد تک تکلیف میں مبتلا ہو گئے ہو تم کوئی بکری نہیں مہیا کر سکتے ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں ۔ فرمایا ، پھر تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو ، ہر مسکین کو آدھا صاع کھانا کھلانا اور اپنا سر منڈوا لو ۔ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تو یہ آیت خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی اور اس کا حکم تم سب کے لیے عام ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب تفسير القرآن / حدیث: 4517
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة