حدیث نمبر: Q4477
قَالَ مُجَاهِدٌ : إِلَى شَيَاطِينِهِمْ : أَصْحَابِهِمْ مِنَ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُشْرِكِينَ ، مُحِيطٌ بِالْكَافِرِينَ ، اللَّهُ جَامِعُهُمْ عَلَى الْخَاشِعِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَقًّا ، قَالَ مُجَاهِدٌ : بِقُوَّةٍ يَعْمَلُ بِمَا فِيهِ ، وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ : مَرَضٌ شَكٌّ وَمَا خَلْفَهَا عِبْرَةٌ لِمَنْ بَقِيَ لَا شِيَةَ لَا بَيَاضَ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : يَسُومُونَكُمْ يُولُونَكُمُ الْوَلَايَةُ مَفْتُوحَةٌ مَصْدَرُ الْوَلَاءِ وَهِيَ الرُّبُوبِيَّةُ إِذَا كُسِرَتِ الْوَاوُ فَهِيَ الْإِمَارَةُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : الْحُبُوبُ الَّتِي تُؤْكَلُ كُلُّهَا فُومٌ ، وَقَالَ قَتَادَةُ : فَبَاءُوا فَانْقَلَبُوا ، وَقَالَ غَيْرُهُ : يَسْتَفْتِحُونَ يَسْتَنْصِرُونَ شَرَوْا بَاعُوا رَاعِنَا مِنَ الرُّعُونَةِ إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُحَمِّقُوا إِنْسَانًا ، قَالُوا رَاعِنًا لَا يَجْزِي لَا يُغْنِي خُطُوَاتِ مِنَ الْخَطْوِ وَالْمَعْنَى آثَارَهُ ابْتَلَى اخْتَبَرَ.
مولانا داود راز
مجاہد نے کہا «إلى شياطينهم» سے ان کے دوست منافق اور مشرک مراد ہیں ۔ «محيط بالكافرين» کے معنی اللہ کافروں کو اکٹھا کرنے والا ہے ۔ «على الخاشعين» میں «خاشعين» سے مراد پکے ایماندار ہیں ۔ «بقوة» یعنی اس پر عمل کر کے قوت سے یہی مراد ہے ۔ ابوالعالیہ نے کہا «مرض» سے «شك» مراد ہے ۔ «صبغة» سے دین مراد ہے ۔ «وما خلفها» یعنی پچھلے لوگوں کے لیے عبرت جو باقی رہی ۔ «وما خلفها» کا معنی اس میں سفیدی نہیں اور ابوالعالیہ کے سوا نے کہا «يسومونكم» کا معنی تم پر اٹھاتے تھے یا تم کو ہمیشہ تکلیف پہنچاتے تھے ۔ اور ( سورۃ الکہف میں ) «الولاية» بفتح واؤ ہے جس کے معنی «ربوبية» یعنی خدائی کے ہیں ۔ اور «ولاية» بکسر واؤ اس کے معنی سرداری کے ہیں ۔ بعض لوگوں نے کہا جن جن اناجوں کو لوگ کھاتے ہیں ان کو «فوم.» کہتے ہیں ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کو ثوم پڑھا ہے یعنی لہسن کے معنی میں لیا ہے ۔ «فادارأتم» کا معنی تم نے آپس میں جھگڑا کیا ۔ قتادہ نے کہا «فباءوا» یعنی لوٹ گئے اور قتادہ کے سوا دوسرے شخص ( ابو عبیدہ ) نے کہا «يستفتحون» کا معنی مدد مانگتے تھے ۔ «شروا» کے معنی بیجا ۔ لفظ «راعنا» «رعونة» سے نکلا ہے ۔ عرب لوگ جب کسی کو احمق بناتے تو اس کو لفظ «راعنا» سے پکارتے ۔ «لا يجزي» کچھ کام نہ آئے گی ۔ «ابتلي» کے معنی آزمایا جانچا ۔ «خطوات» لفظ «خطو» بمعنی قدم کی جمع ہے ۔