کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: کسی قوم کا بھانجا یا آزاد کیا ہوا غلام بھی اسی قوم میں داخل ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 3528
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ ، فَقَالَ : " هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ ، قَالُوا : لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو خاص طور سے ایک مرتبہ بلایا ، پھر ان سے پوچھا کیا تم لوگوں میں کوئی ایسا شخص بھی رہتا ہے جس کا تعلق تمہارے قبیلے سے نہ ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ صرف ہمارا ایک بھانجا ایسا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھانجا بھی اسی قوم میں داخل ہوتا ہے ۔