کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اللہ کے راستے میں جہاد میں پہرہ دینا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2885
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَهِرَ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ ، قَالَ : لَيْتَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي صَالِحًا يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ سِلَاحٍ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ، فَقَالَ : أَنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ جِئْتُ لِأَحْرُسَكَ ، وَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز
´ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا ، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی ، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید نے خبر دی ، کہا ہم کو عبداللہ بن ربیعہ بن عامر نے خبر دی ، کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، آپ بیان کرتی تھیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک رات ) بیداری میں گزاری ، مدینہ پہنچنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کاش ! میرے اصحاب میں سے کوئی نیک مرد ایسا ہوتا جو رات بھر ہمارا پہرہ دیتا ! “ ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ہم نے ہتھیار کی جھنکار سنی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ” یہ کون صاحب ہیں ؟ “ ( آنے والے نے ) کہا میں ہوں سعد بن ابی وقاص ، آپ کا پہرہ دینے کے لیے حاضر ہوا ہوں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے ۔ ان کے لیے دعا فرمائی اور آپ سو گئے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 2885
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2886
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ ، وَالْقَطِيفَةِ ، وَالْخَمِيصَةِ إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ وَإِنْ لَمْ يُعْطَ ، لَمْ يَرْضَ " ، لَمْ يَرْفَعْهُ إِسْرَائِيلُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابوبکر نے خبر دی ، انہیں ابوحصین نے ، انہیں ابوصالح اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اشرفی کا بندہ ، روپے کا بندہ ، چادر کا بندہ ، کمبل کا بندہ ہلاک ہوا کہ اگر اسے کچھ دے دیا جائے تب تو خوش ہو جاتا ہے اور اگر نہیں دیا جائے تو ناراض ہو جاتا ہے ۔ “ اس حدیث کو اسرائیل اور محمد بن جہادہ نے ابوحصین سے مرفوع نہیں کیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 2886
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2887
وَزَادَنَا عَمْرٌو ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ ، وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ ، وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ وَإِنْ لَمْ يُعْطَ سَخِطَ تَعِسَ وَانْتَكَسَ ، وَإِذَا شِيكَ فَلَا انْتَقَشَ طُوبَى لِعَبْدٍ آخِذٍ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَشْعَثَ رَأْسُهُ مُغْبَرَّةٍ قَدَمَاهُ ، إِنْ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ ، وَإِنْ كَانَ فِي السَّاقَةِ كَانَ فِي السَّاقَةِ ، إِنِ اسْتَأْذَنَ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، وَإِنْ شَفَعَ لَمْ يُشَفَّعْ " قَالَ : أَبُو عَبْدِ اللهِ لَمْ يَرْفَعْهُ إِسْرَائِيلُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، وَقَالَ : تَعْسًا كَأَنَّهُ يَقُولُ فَأَتْعَسَهُمُ اللَّهُ طُوبَى فُعْلَى مِنْ كُلِّ شَيْءٍ طَيِّبٍ وَهِيَ يَاءٌ حُوِّلَتْ إِلَى الْوَاوِ وَهِيَ مِنْ يَطِيبُ .
مولانا داود راز
´اور عمرو ابن مرزوق نے ہم سے بڑھا کر بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے خبر دی ، انہوں نے اپنے باپ سے ، انہوں نے ابوصالح سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ،` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اشرفی کا بندہ اور روپے کا بندہ اور کمبل کا بندہ تباہ ہوا ، اگر اس کو کچھ دیا جائے تب تو خوش جب نہ دیا جائے تو غصہ ہو جائے ، ایسا شخص تباہ سرنگوں ہوا ۔ اس کو کانٹا لگے تو اللہ کرے پھر نہ نکلے ۔ مبارک کا مستحق ہے وہ بندہ جو اللہ کے راستے میں ( غزوہ کے موقع پر ) اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے ، اس کے سر کے بال پراگندہ ہیں اور اس کے قدم گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں ، اگر اسے چوکی پہرے پر لگا دیا جائے تو وہ اپنے اس کام میں پوری تندہی سے لگا رہے اور اگر لشکر کے پیچھے ( دیکھ بھال کے لیے ) لگا دیا جائے تو اس میں بھی پوری تندہی اور فرض شناسی سے لگا رہے ۔ ( اگرچہ زندگی میں غربت کی وجہ سے اس کی کوئی اہمیت بھی نہ ہو کہ ) اگر وہ کسی سے ملاقات کی اجازت چاہے تو اسے اجازت بھی نہ ملے اور اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش بھی قبول نہ کی جائے ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ اسرائیل اور محمد بن جحادہ نے ابوحصین سے یہ روایت مرفوعاً نہیں بیان کی ہے اور کہا کہ قرآن مجید میں جو لفظ «تعسا‏» آیا ہے گویا یوں کہنا چاہئے کہ «فأتعسهم الله‏.‏» ( اللہ انہیں گرائے ہلاک کرے ) «طوبى فعلى» کے وزن پر ہے ہر اچھی اور طیب چیز کے لیے ۔ واو اصل میں یا تھا ( طیبیٰ ) پھر یا کو واو سے بدل دیا گیا اور یہ طیب سے نکلا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 2887
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة