کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ ”اے پیغمبر! ان کافروں سے کہہ دو تم ہمارے لیے کیا انتظار کرتے ہو، ہمارے لیے تو دونوں میں سے (شہادت یا فتح) کوئی بھی ہو اچھا ہی ہے اور لڑائی ڈول ہے کبھی ادھر کبھی ادھر“۔
حدیث نمبر: 2804
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ هِرَقْلَ ، قَالَ لَهُ : سَأَلْتُكَ كَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ ، فَزَعَمْتَ أَنَّ الْحَرْبَ سِجَالٌ ، وَدُوَلٌ فَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى ، ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ابن شہاب سے ‘ انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` ہرقل نے ان سے کہا تھا میں نے تم سے پوچھا تھا کہ ان کے یعنی ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ تمہاری لڑائیوں کا کیا انجام رہتا ہے تو تم نے بتایا کہ لڑائی ڈولوں کی طرح ہے ‘ کبھی ادھر کبھی ادھر یعنی کبھی لڑائی کا انجام ہمارے حق میں ہوتا ہے اور کبھی ان کے حق میں ۔ انبیاء کا بھی یہی حال ہوتا ہے کہ ان کی آزمائش ہوتی رہتی ہے ( کبھی فتح اور کبھی ہار سے ) لیکن انجام انہیں کے حق میں اچھا ہوتا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 2804
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة