باب: لوگوں میں صلح کرانے کا ثواب۔
حدیث 2690–2691
باب: دو آدمیوں میں میل ملاپ کرانے کے لیے جھوٹ بولنا گناہ نہیں ہے۔
حدیث 2692–2692
باب: حاکم لوگوں سے کہے ہم کو لے چلو ہم صلح کرا دیں۔
حدیث 2693–2693
باب: اللہ کا یہ فرمان (سورۃ نساء میں) اگر میاں بیوی صلح کر لیں تو صلح ہی بہتر ہے۔
حدیث 2694–2694
باب: اگر ظلم کی بات پر صلح کریں تو وہ صلح لغو ہے۔
حدیث 2695–2697
باب: صلح نامہ میں لکھنا کافی ہے یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر فلاں ولد فلاں اور فلاں ولد فلاں نے صلح کی اور خاندان اور نسب نامہ لکھنا ضروری نہیں ہے۔
حدیث 2698–2699
باب: مشرکین کے ساتھ صلح کرنے کا بیان۔
حدیث 2700–2702
باب: دیت پر صلح کرنا (یعنی قصاص معاف کر کے دیت پر راضی ہو جانا)۔
حدیث 2703–2703
باب: حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میرا یہ بیٹا ہے مسلمانوں کا سردار ہے اور شاید اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے۔
حدیث 2704–2704
باب: کیا امام صلح کے لیے فریقین کو اشارہ کر سکتا ہے؟
حدیث 2705–2706
باب: لوگوں میں آپس میں ملاپ کرانے اور انصاف کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث 2707–2707
باب: اگر حاکم صلح کرنے کے لیے اشارہ کرے اور کوئی فریق نہ مانے تو قاعدے کا حکم دے دے۔
حدیث 2708–2708
باب: میت کے قرض خواہوں اور وارثوں میں صلح کا بیان اور قرض کا اندازہ سے ادا کرنا۔
حدیث 2709–2709
باب: کچھ نقد دے کر قرض کے بدلے صلح کرنا۔
حدیث 2710–2710
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔