کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: باندیوں اور غلاموں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2659
وَقَالَ أَنَسٌ : شَهَادَةُ الْعَبْدِ جَائِزَةٌ إِذَا كَانَ عَدْلًا ، وَأَجَازَهُ شُرَيْحٌ ، وَزُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى ، وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ : شَهَادَتُهُ جَائِزَةٌ إِلَّا الْعَبْدَ لِسَيِّدِهِ ، وَأَجَازَهُ الْحَسَنُ ، وَإِبْرَاهِيمُ فِي الشَّيْءِ التَّافِهِ ، وَقَالَ شُرَيْحٌ : كُلُّكُمْ بَنُو عَبِيدٍ وَإِمَاءٍ .
مولانا داود راز
´اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ` غلام اگر عادل ہے تو اس کی گواہی جائز ہے ، شریح اور زرارہ بن اوفی نے بھی اسے جائز قرار دیا ہے ۔ ابن سیرین نے کہا کہ اس کی گواہی جائز ہے ، سوا اس صورت کے جب غلام اپنے مالک کے حق میں گواہی دے ( کیونکہ اس میں مالک کی طرف داری کا احتمال ہے ) حسن اور ابراہیم نے معمولی چیزوں میں غلام کی گواہی کی اجازت دی ہے ۔ قاضی شریح نے کہا کہ تم میں سے ہر شخص غلاموں اور باندیوں کی اولاد ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشهادات / حدیث: Q2659
حدیث نمبر: 2659
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، أَوْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ " أَنَّهُ تَزَوَّجَ أُمَّ يَحْيَى بِنْتَ أَبِي إِهَابٍ ، قَالَ : فَجَاءَتْ أَمَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ : قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ، قَالَ : فَتَنَحَّيْتُ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ : وَكَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنْ قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا ، فَنَهَاهُ عَنْهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن جریج نے ، وہ ابن بی ملیکہ سے ، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے ابن جریج نے بیان کیا کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا ، کہا کہ مجھ سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، یا ( یہ کہا کہ ) میں نے یہ حدیث ان سے سنی کہ` انہوں نے ام یحیی بنت ابی اہاب سے شادی کی تھی ۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ایک سیاہ رنگ والی باندی آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے ۔ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف سے منہ پھیر لیا پس میں جدا ہو گیا ۔ میں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جا کر اس کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اب ( نکاح ) کیسے ( باقی رہ سکتا ہے ) جبکہ تمہیں اس عورت نے بتا دیا ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ام یحییٰ کو اپنے ساتھ رکھنے سے منع فرما دیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الشهادات / حدیث: 2659
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة