حدیث نمبر: 1860
وقَالَ لِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الْأَزْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : " أَذِنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا ، فَبَعَثَ مَعَهُنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ " .
مولانا داود راز
´امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے احمد بن محمد نے کہا کہ ان سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے ان کے داد ( ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ) نے کہ` عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری حج کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو حج کی اجازت دی تھی اور ان کے ساتھ عثمان بن عفان اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو بھیجا تھا ۔
حدیث نمبر: 1861
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِين رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَغْزُو وَنُجَاهِدُ مَعَكُمْ ؟ فَقَالَ : لَكِنَّ أَحْسَنَ الْجِهَادِ وَأَجْمَلَهُ الْحَجُّ حَجٌّ مَبْرُورٌ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَا أَدَعُ الْحَجَّ بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ، ان سے حبیب بن عمرہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے عائشہ بنت طلحہ نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم بھی کیوں نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد اور غزووں میں جایا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں کے لیے سب سے عمدہ اور سب سے مناسب جہاد حج ہے ، وہ حج جو مقبول ہو ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن لیا ہے حج کو میں کبھی چھوڑنے والی نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 1862
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ ، وَلَا يَدْخُلُ عَلَيْهَا رَجُلٌ إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ فِي جَيْشِ كَذَا وَكَذَا ، وَامْرَأَتِي تُرِيدُ الْحَجَّ ، فَقَالَ : اخْرُجْ مَعَهَا .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت اپنے محرم رشتہ دار کے بغیر سفر نہ کرے اور کوئی شخص کسی عورت کے پاس اس وقت تک نہ جائے جب تک وہاں ذی محرم موجود نہ ہو ۔ ایک شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! میں فلاں لشکر میں جہاد کے لیے نکلنا چاہتا ہوں ، لیکن میری بیوی کا ارادہ حج کا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اپنی بیوی کے ساتھ حج کو جا ۔
حدیث نمبر: 1863
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، أَخْبَرَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَجَّتِهِ ، قَالَ لِأُمِّ سِنَانٍ الْأَنْصَارِيَّةِ : مَا مَنَعَكِ مِنَ الْحَجِّ ؟ قَالَتْ : أَبُو فُلَانٍ تَعْنِي زَوْجَهَا ، كَانَ لَهُ نَاضِحَانِ حَجَّ عَلَى أَحَدِهِمَا ، وَالْآخَرُ يَسْقِي أَرْضًا لَنَا ، قَالَ : إِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً ، أَوْ حَجَّةً مَعِي " ، رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی ، کہا ہم کو حبیب معلم نے خبر دی ، انہیں عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سنان انصاریہ عورت رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ تو حج کرنے نہیں گئی ؟ انہوں نے عرض کی کہ فلاں کے باپ یعنی میرے خاوند کے پاس دو اونٹ پانی پلانے کے تھے ایک پر تو خود حج کو چلے گئے اور دوسرا ہماری زمین سیراب کرتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے ، اس روایت کو ابن جریج نے عطاء سے سنا ، کہا انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ، اور عبیداللہ نے عبدالکریم سے روایت کیا ، ان سے عطاء نے ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔
حدیث نمبر: 1864
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ قَزَعَةَ مَوْلَى زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، وَقَدْ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً ، قَالَ : أَرْبَعٌ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : يُحَدِّثُهُنَّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْجَبْنَنِي وَآنَقْنَنِي ، " أَنْ لَا تُسَافِرَ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ لَيْسَ مَعَهَا زَوْجُهَا ، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ ، وَلَا صَوْمَ يَوْمَيْنِ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : مَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِي ، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى " .
مولانا داود راز
´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ، ان سے عبدالملک بن عمر نے ، ان سے زیاد کے غلام قزعہ نے ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ جہاد کئے تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے چار باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھیں یا یہ کہ وہ یہ چار باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے اور کہتے تھے کہ یہ باتیں مجھے انتہائی پسند ہیں یہ کہ کوئی عورت دو دن کا سفر اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی ذو رحم محرم نہ ہو ، نہ عیدالفطر اور عید الاضحی کے روزے رکھے جائیں نہ عصر کی نماز کے بعد غروب ہونے کے پہلے اور نہ صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کوئی نماز پڑھی جائے اور نہ تین مساجد کے سوا کسی کے لیے کجاوے باندھے جائیں مسجد الحرام ، میری مسجد اور مسجد الاقصیٰ ۔