کتب حدیث › صحيح البخاري › ابواب › باب: ظہر کی نماز کے لیے سویرے جانے کی فضیلت کا بیان۔
❮
❯
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ ، فَأَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ .
مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے امام مالک سے بیان کیا ، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے غلام سمی نامی سے ، انہوں نے ابوصالح سمان سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص کہیں جا رہا تھا ۔ راستے میں اس نے کانٹوں کی بھری ہوئی ایک ٹہنی دیکھی ، پس اسے راستے سے دور کر دیا ۔ اللہ تعالیٰ ( صرف اسی بات پر ) راضی ہو گیا اور اس کی بخشش کر دی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 652
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
ثُمَّ قَالَ : الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِيقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَقَالَ : لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ .
مولانا داود راز
´پھر آپ نے فرمایا کہ` شہداء پانچ قسم کے ہوتے ہیں ۔ طاعون میں مرنے والے ، پیٹ کے عارضے ( ہیضے وغیرہ ) میں مرنے والے اور ڈوب کر مرنے والے اور جو دیوار وغیرہ کسی بھی چیز سے دب کر مر جائے اور اللہ کے راستے میں ( جہاد کرتے ہوئے ) شہید ہونے والے اور آپ نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان دینے اور پہلی صف میں شریک ہونے کا ثواب کتنا ہے اور پھر اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو کہ قرعہ ڈالا جائے تو لوگ ان کے لیے قرعہ ہی ڈالا کریں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 653
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ ظہر کی نماز کے لیے سویرے جانے میں کیا ثواب ہے تو اس کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کریں اور اگر یہ جان جائیں کہ عشاء اور صبح کی نماز کے فضائل کتنے ہیں ، تو گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے ان کے لیے آئیں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 654
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة