صحيح البخاري
كتاب التوحيد— کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں
بَابُ ذِكْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِوَايَتِهِ عَنْ رَبِّهِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب سے روایت کرنا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : رُبَّمَا ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا ، وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا ، أَوْ بُوعًا " ، وَقَالَ مُعْتَمِرٌ ، سَمِعْتُ أَبِي ، سَمِعْتُ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ ، عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ .´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے ، ان سے تمیمی نے ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ) جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور جب وہ ایک ہاتھ قریب آتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں ۔ اور معتمر نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
بندہ جب اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ اپنے بدن کی حرکت سے اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہو بلکہ وہ انابت، رجوع الی اللہ، دل کی توجہ، اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’بندہ بحالت سجدہ اپنے رب کے بہت قریب ہوتا ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 1083(482)
اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بندے کے قریب ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش سے نیچے اتر کر بندے کے قریب ہوتا ہے بلکہ وہ عرش پر مستوی رہتے ہوئے اپنے بندے کے قریب ہوتا ہے۔
وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصود یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کا کلام بیان کیا ہے، خواہ وہ کلام حضرت جبرئیل علیہ السلام کے واسطے سے تھا یا براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا القا ہوا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اس کلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے سماعت کیا اور اس امر کی تصدیق کی کہ واقعی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیان کر رہے ہیں۔
اس وضاحت سے روایت اور مروی، نیز تلاوت اور متلو میں فرق واضح ہوا۔
وھو المقصود۔
باع: بوع اوربوع تینوں کا معنی اپنے دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کے برابر ہے، جس کو چار ہاتھ کے برابر قرار دیا جاتا ہے۔