حدیث نمبر: 7319
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْخُذَ أُمَّتِي بِأَخْذِ الْقُرُونِ قَبْلَهَا شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَفَارِسَ ، وَالرُّومِ ، فَقَالَ : وَمَنِ النَّاسُ إِلَّا أُولَئِكَ " .
مولانا داود راز

´ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت اس طرح پچھلی امتوں کے مطابق نہیں ہو جائے گی جیسے بالشت بالشت کے اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے ۔ “ پوچھا گیا : یا رسول اللہ ! اگلی امتوں سے کون مراد ہیں ، پارسی اور نصرانی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” پھر اور کون ۔“

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة / حدیث: 7319
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3994

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
7319. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک میری امت بھی پہلی امتوں کی چال پر نہ چلے گی، بالشت کے ساتھ بالشت اور ہاتھ کے برابر ہاتھ کی پیروی کرے گی۔ عرض کی گیا۔ اللہ کے رسول! پہلی امتوں سے کون مراد ہیں؟ پارسی اور رومی؟ آپ نے فرمایا: "ان کے علاوہ اور کون ہوسکتے ہیں؟"[صحيح بخاري، حديث نمبر:7319]
حدیث حاشیہ: جب مسلمانوں کی سلطنت قائم ہوئی پہلے انہوں نے ایرانیوں کی چال ڈھال وضع قطع اختیار کی‘ پھر بعد کے زمانہ میں مغلیہ سلاطین کی سلطنت سنہ1200ھ ہجری تک رہی تو انہیں کی سب باتیں جا رہی ہوئیں۔
یہاں تک کہ سن الٰہی جاری ہو گیا اس کے بعد انگریزوں کی حکومت ہوئی اب اکثر مسلمان ان کی مشابہت کر رہے ہیں۔
کھانے‘ پینے‘ لباس‘ معاشرت‘ نشست برخاست سب رسموں میں انہی کی پیروی کر رہے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7319 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3994 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´امتوں کا انتشار اور ان کا فرقوں میں بٹ جانا۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم پہلی امتوں کے نقش قدم پر چلو گے اگر وہ ہاتھ پھیلانے کے مقدار چلے ہوں گے ۱؎، تو تم بھی وہی مقدار چلو گے، اور اگر وہ ایک ہاتھ چلے ہوں گے تو تم بھی ایک ہاتھ چلو گے، اور اگر وہ ایک بالشت چلے ہوں گے تو تم بھی ایک بالشت چلو گے، یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی اس میں داخل ہو گے "، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ یہود اور نصاریٰ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تب اور کون ہو سکتے ہیں "؟ ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3994]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہود ونصاریٰ کے رسم ورواج کی پیروی کرنا گمراہی کا باعث ہے۔

(2)
یہود ونصایٰ اور ہندوؤں کے تہوار میں شریک ہونا ان کی محبت پیدا کرتا ہے جس کے نتیجے میں ان کا مذہب بھی اچھا محسوس ہونے لگتا ہے۔
جب اسلام کے مقابلے میں کفر کے طور طریقے اچھے لگنے لگیں تو پھر نام ونہاد ایمان کا باقی رہنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

(3)
باع سے مراد وہ فاصلہ ہے جو دونوں ہاتھوں کے سروں کے درمیان اس وقت ہوتا ہےجب دونوں باز ومخالف سمتوں میں دائیں بائیں پھیلالیے جائیں۔
ہاتھ ذراع سے مراد ہاتھ کی انگلیوں سے کہنی تک کا فاصلہ ہے۔

(4)
سانڈے کے بل میں گھسنے کی کوشش کرنا ایک نا معقول حرکت ہے لیکن یہودونصاریٰ کی پیروی میں یہ مسلمان یہ بھی نہیں دیکھیں گے کہ یہ کام یا سوچ درست بھی ہے یا نہیں بغیر سوچے سمجھے اس کی پیروی شروع کردینگے۔

(5)
اس پیش گوئی پر عمل کی موجودہ دور میں متعدد مثالیں ہیں جیسے آج سے چند سال قبل جب سوشلزم کا تصور نیانیا سامنے آیا تو مسلمانوں میں سے بعض لوگوں نے قرآن وحدیث کی نصوص کی اس انداز سے تاویل شروع کردی کہ جس سے سوشلزم کا اسلام میں شامل ہونا ثابت کیا جاسکے۔
جب روس نے سوشلزم کے اس تصور کو چھوڑدیا تو انھی لوگوں نے قرآن مجید سے مغربی جمہوریت اور مادر پدرآزادی کے حق میں دلائل تلاش کرنے شروع کردیے۔
اسی طرح مغرب کی تہذیبی و ثقافتی یلغار ہے۔
جس کا مسلمانوں کی نسل نو بڑی تیزی سے شکار ہوتی جارہی ہے۔
اعاذناالله منه۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3994 سے ماخوذ ہے۔