صحيح البخاري
كتاب الديات— کتاب: دیتوں کے بیان میں
بَابُ مَنِ اسْتَعَانَ عَبْدًا أَوْ صَبِيًّا: باب: جس نے کسی غلام یا بچہ کو کام کیلئے عاریتاً مانگ لیا۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي ، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ ، فَلْيَخْدُمْكَ ، قَالَ : فَخَدَمْتُهُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ ، فَوَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا ، وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا " .´مجھ سے عمر بن زرارہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو اسماعیل بن ابراہیم نے خبر دی ، انہیں عبدالعزیز نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو طلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا : یا رسول اللہ ! انس سمجھ دار لڑکا ہے اور یہ آپ کی خدمت کرے گا ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سفر میں بھی کی اور گھر پر بھی ۔ واللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے کسی چیز کے متعلق جو میں نے کر دیا ہو یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا اور نہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے میں نے نہ کیا ہو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
حضرت انس رضی اللہ عنہ اپنی والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کی کفالت میں تھے۔
انھوں نے اس بات کو سعادت خیال کیا کہ ان کا بیٹا رات دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرے کیونکہ اس میں دنیا وآخرت کی بھلائیاں تھیں۔
اس جذبے سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور اس وقت ان کے ہمراہ شوہر نامدار حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، اس لیے واقعے کی نسبت کبھی والدہ اور کبھی ان کے شوہر حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی۔
(2)
ایک دوسرا واقعہ بھی اس طرح کا منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے خیبر جاتے ہوئے فرمایا: ’’میرے لیے کوئی بچہ تلاش کرو جو میری دوران سفر میں خدمت کرے تو انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو پیش کیا۔
‘‘ (فتح الباري: 316/12)
بہرحال غلاموں اور بچوں سے خدمت لی جا سکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ مدرسے کے اساتذہ کو بچوں سے خدمت لینے سے بچنا چاہیے کیونکہ یہ فتنے وفساد کا دور ہے۔
یہ آپ کے حسن اخلاق کی دلیل ہے اور حقیقت ہے کہ آپ سے زیادہ دنیا میں کوئی شخص نرم دل خوش اخلاق پیدا نہیں ہوا۔
اللہ پاک اس پیارے رسول پر ہزارہا ہزار درود وسلام نازل فرمائے۔
آمین ثم آمین۔
(1)
دس سال کی مدت کافی طویل ہوتی ہے، مگر اس مدت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کبھی نہیں ڈانٹا اور نہ کبھی آپ نے سخت کلامی کی۔
یہ آپ کے حسن اخلاق کی واضح دلیل ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ دنیا میں آپ سے بڑھ کر کوئی شخص نرم دل، خندہ جبیں اور خوش کلام پیدا نہیں ہوا۔
(2)
اس حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی عظمت ظاہر ہوتی ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم دینی معاملات میں کبھی مداہنت نہیں کرتے تھے کیونکہ یہ معاملات امر بالمعروف اور نہی اعن المنکر کی قبیل سے ہیں۔
بہرحال آپ اپنے خادموں سے حسن سلوک سے پیش آتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ قابل صد مبارک باد ہیںکہ ان کو سفر و حضر میں پورے دس سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا موقع حاصل ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کا بہت قریب سے انہوں نے معائنہ کیا اور قیامت تک کے لئے وہ خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت سے دنیا میں یادگار رہ گئے (رضی اللہ عنہ وارضاہ)
یہ ابو طلحہ زید بن سہل انصاری شوہر ام سلیم (والدہ انس)
کے ہیں اوراس حدیث کے جملہ راوی بصری ہیں جس طرح کہ قسطلانی نے بیان کیا ہے۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب یتیم میں خدمت کرنے کی صلاحیت ہو تو اسے سفر میں ساتھ لے جانا جائز ہے۔
حضرت ابو طلحہ ؓ حضرت انس ؓ کے سوتیلے باپ تھے کیونکہ ان کی والدہ ام سلیم ؓ سے انہوں نے نکاح کر لیا تھا۔
حضرت انس ؓ کی عمر دس سال تھی جب انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کے لیے وقف کر دیا گیا، پھر انہیں دس سال تک سفر و حضر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کا موقع ملا۔
انہوں نے بہت قریب سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق فاضلہ کا مطالعہ کیا اور قیامت تک وہ رسول اللہ ﷺ کے خدمت گزار کی حیثیت سے پہچانے جائیں گے۔
جب حضرت انس ؓ فوت ہوئے تو ان کی عمر سو سال سے زیادہ تھی۔
(2)
حضرت انس ؓ کے خادم بننے کی تفصیل اس طرح ہے کہ ان کی والدہ ام سلیم نے انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کے لیے پیش کیا تھا۔
(صحیح البخاري، الصوم، حدیث: 1982)
پھر حضرت ابو طلحہ ؓ نے ان کی اجازت سے غزوۂ خیبر کے لیے جاتے وقت دوران سفر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کے لیے ان کا انتخاب کیا۔
(صحیح البخاري، الجھادوالسیر، حدیث: 2893)
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال مدینہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، میں ایک کمسن بچہ تھا، میرا ہر کام اس طرح نہ ہوتا تھا جیسے میرے آقا کی مرضی ہوتی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مجھ سے اف تک نہیں کہا اور نہ مجھ سے یہ کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ یا تم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4774]
بعض نوخیز بچے ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان کو ان کے کاموں میں حوصلہ اور اعتماد دیا جائے تو اس طرح سے انکی عملی زندگی بڑ ی کامیاب رہتی ہے۔
تاہم سارے بچے اس طرح ذہین ہی ہوتے ہیں نہ زیادہ سمجھدار ہی انکو آداب سکھانے کے لیئے کچھ نہ کچھ سرزنش بھی کرنی پڑتی ہے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ اول الذکر قسم کے بچے تھے وہ بچہ ہونے کے با وجود رسول اللہﷺ کو شکائیت کا مو قع نہی دیتے تھے اور نبی اکرمﷺ تو تھے سراپا شفقت اور مجسمِ رحمت۔
آپ نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے ہمیشہ شفقت و پیار والا معاملہ ہی کیا۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے بہتر اخلاق والے تھے، ایک دن آپ نے مجھے کسی ضرورت سے بھیجا تو میں نے کہا: قسم اللہ کی، میں نہیں جاؤں گا، حالانکہ میرے دل میں یہ بات تھی کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے، اس لیے ضرور جاؤں گا، چنانچہ میں نکلا یہاں تک کہ جب میں کچھ بچوں کے پاس سے گزر رہا تھا اور وہ بازار میں کھیل رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے سے میری گردن پکڑ لی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مڑ کر دیکھا، آپ ہنس رہے تھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4773]
رسول اللہﷺ حلم اور اخلاقِ حسنہ کی شاندار تصویر تھے اور بچوں کی نفسیات سے خوب آگاہ تھے۔
نیز حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی کبھی نبی اکرمﷺ کو ایسا موقع نہیں دیا تھا جو آپ کے ذوق اور مزاج کے لیئے گرانی کا باعث بنتا۔