صحيح البخاري
كتاب الديات— کتاب: دیتوں کے بیان میں
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا} : باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ المائدہ میں) فرمایا ”جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچا لی“۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَيُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قُلْتُ : أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ ، قَالَ : ارْجِعْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا ، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ، قَالَ : إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ " .´ہم سے عبدالرحمٰن بن المبارک نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے ، کہا ہم سے ایوب اور یونس نے ، ان سے امام حسن بصری نے ، ان سے احنف بن قیس نے کہ` میں ان صاحب ( علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ) کی جنگ جمل میں مدد کے لیے تیار تھا کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے پوچھا ، کہاں کا ارادہ ہے ؟ میں نے کہا کہ ان صاحب کی مدد کے لیے جانا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے فرمایا کہ واپس چلے جاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب دو مسلمان تلوار کھینچ کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں جاتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ایک تو قاتل تھا لیکن مقتول کو سزا کیوں ملے گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے قاتل کے قتل پر آمادہ تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب بلا وجہ شرعی ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو مارنے کی نیت کرے۔
مطلب یہ ہے کہ مقتول بھی اپنے مد مقابل کو قتل کرنے پر آمادہ تھا مگر اسے موقع نہ مل سکا، اس لیے وہ خود مارا گیا۔
بدنیتی کی وجہ سے وہ بھی جہنم میں جائے گا۔
یہ وعید اس وقت ہے جب وہ کسی تاویل کے بغیر کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔
اس کا مطلب صرف دشمنی اور طلب دنیا ہو لیکن جس نے بغاوت ختم کرنے کے لیے باغیوں سے جنگ کی یا کسی حملہ اور کا حملہ روکنے کے لیے ہتھیار اٹھائے اور انھیں قتل کر دیا تو وہ اس وعید میں داخل نہیں ہوگا۔
اس کے علاوہ اگر کوئی انسان اپنے مال اور اپنی عزت کے دفاع پر مامور ہے اور اس دوران میں اس سے قتل ہو جائے تو وہ بھی مذکورہ وعید کا حق دار نہیں ہوگا کیونکہ اس کا مقصود اس کا قتل نہیں بلکہ اپنا دفاع کرنا ہے۔
(فتح الباري: 245/12)
1۔
فسادات کے زمانے سے مراد جنگ جمل اور جنگ صفین کا زمانہ ہے۔
جب وہ مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مقابلے میں آ جائیں تو دونوں اجتہاد تاویل میں خطا کار ہوں گے یا ان میں سے ایک برحق اور دوسرا خطا کار ہوگا۔
ان میں تیسری صورت نہیں ہے کہ دونوں برحق ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حق ایک ہے۔
2۔
پہلی صورت میں اگردونوں کے متعلق اصلاح کی امید ہوتو ان کی اصلاح کرنا ضروری ہے اور اگر اصلاح کی امید نہ ہو تو دونوں سے علیحدگی اختیار کرلی جائے۔
اپنی تلواروں کو توڑ کر گھر میں رہنا چاہیے۔
لڑائی کا حصہ بالکل ہی نہیں بننا چاہیے۔
3۔
دوسری صورت میں جبکہ ایک غلط اور دوسرا صحیح ہو تو صحیح موقف والے کی موافقت کرنا ضروری ہے۔
4۔
یہاں ایک اور صورت بھی ممکن ہے کہ دونوں مجتہد نہ ہوں بلکہ دونوں ظالم ہوں اور خاندانی عصبیت یا ہوس ملک گیری کے لیے ایک دوسرے سے لڑ رہے ہوں تو بھی کسی کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔
دونوں سے علیحدگی اختیار کر لی جائے لیکن صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے باہمی جھگڑوں کے متعلق خاموشی اختیار کرنے میں عافیت ہے۔
ان کے متعلق زبان کھولنا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔
5۔
حدیث میں وہ دو مسلمان مراد ہیں جو ذاتی عناد مخالفت یا دشمنی کی بنا پر ایک دوسرے کو قتل کرنے پرآمادہ ہوں۔
اگرچہ قاتل ایک ہوگا لیکن مقتول بھی اس کے قتل کرنے کے متعلق حریص تھا اتفاق سے اس کا داؤ نہیں چلا، اس لیے وہ قتل ہوگیا، لہذا سزا کے دونوں حق دار ہوں گے، پھر ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے اگر چاہے تو ان کو سزا دے اور چاہے تو انھیں معاف کر دے۔
لیکن مجتہدین کے متعلق یہ حکم نہیں ہوگا جس کی تفصیل پہلے بیان ہو چکی ہے۔
بعض حضرات نے حدیث کو اس معنی پر محمول کیا ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے قتل کو حلال خیال کریں۔
(فتح الباري: 43/13)
6۔
ایک دوسری حدیث سے اس کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک لوگوں پر یہ وقت نہ آئے کہ قاتل کو قتل کرنے کی وجہ معلوم نہ ہو اور مقتول کو اپنے قتل ہونے کا سبب معلوم نہ ہو۔
‘‘ پوچھا گیا: ایسا کیونکر ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ’’جب قتل وغارت گری عام ہوگی۔
ایسے حالات میں قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے۔
واللہ أعلم۔
(صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 7304(2908)
«. . . سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواریں لے کر بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! قاتل تو خیر (ضرور دوزخی ہونا چاہیے) مقتول کیوں؟ فرمایا ”وہ بھی اپنے ساتھی کو مار ڈالنے کی حرص رکھتا تھا . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 30]
اس بات کا مقصد خوارج اور معتزلہ کی تردید ہے جو کبیرہ گناہ کے مرتکب کو کافر قرار دیتے ہیں۔ احنف بن قیس جنگ جمل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مددگاروں میں تھے۔ جب ابوبکرہ نے ان کو یہ حدیث سنائی تو وہ لوٹ گئے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبکرہ نے اس حدیث کو مطلق رکھا۔ حالانکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب بلاوجہ شرعی دو مسلمان ناحق لڑیں اور حق پر لڑنے کی قرآن میں خود اجازت ہے۔ جیسا کہ آیت «فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى» [الحجرات: 9] سے ظاہر ہے اس لیے احنف اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے اور انہوں نے ابوبکرہ کی رائے پر عمل نہیں کیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کرتے وقت اس کا موقع محل بھی ضروری مدنظر رکھنا چاہئیے۔
1۔
اس حدیث سے بھی خوارج کی تردید ہوتی ہے کہ عمل قتال کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ’’مسلمان‘‘ کہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں بایں حالت اسلام سے خارج نہیں ہوئے۔
حدیث کےآخری حصے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دلی ارادہ جب مصمم ہو جائے تو اس پر بھی مؤاخذہ ہو گا جبکہ دوسری روایات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلی خیالات کو معاف کردیا ہے جب تک اس کے مطابق عمل نہ کریں۔
ان دونوں باتوں میں تضاد نہیں کیونکہ ایسے خیالات پر مؤاخذہ نہیں ہوگا جو پختہ نہ ہوں، یعنی آئیں اور گزر جائیں، البتہ مصمم ارادے اور پختہ عزم پر ضرور مؤاخذہ ہوگا اگرچہ اس کے مطابق عمل نہ کیا جا سکے۔
(شرح الکرماني: 444/1)
2۔
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حدیث کو مطلق رکھا اس بنا پر خود بھی جنگ جمل میں شریک نہ ہوئے اور حضرت احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی شرکت سے روک دیا حالانکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان جب لڑنے کے لیے نکل آئیں اور جنگ حق کی بنا پر نہ ہو بلکہ ہوس ملک گیری یا عصبیت وغیرہ اس کی محرک ہوں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں اور اگرمنشا صحیح اور لڑنے والے حق کی حمایت میں جارہے ہوں اور ہر مسلمان اپنی پوری احتیاط اور تحقیق کے ساتھ خود کو حق پر سمجھتے ہوئے اس میں شریک ہو رہا ہو تو دونوں جنتی ہیں کیونکہ حق پر لڑنے کی قرآن نے خود اجازت دی ہے۔
(الحجرات: 49/9)
یہی وجہ ہے کہ حضرت احنف بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت تو حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کہنے پر واپس ہو گئے لیکن جب غور وفکر کیا تو اپنی رائے سے رجوع کر کے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ دیا البتہ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نصیحت اخلاص واحتیاط کے ساتھ لڑائی کی شدت کم کرنے کی کوشش پر مبنی تھی۔
(فتح الباري: 1؍ 117)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حدیث نبوی کو پیش کرتے وقت اس کا موقع محل بھی ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔
3۔
جنگ جمل کی تفصیلات آئندہ بیان ہوں گی البتہ عنوان کی مناسبت سے اس مقام پر اتنا بیان کرنا ضروری ہے کہ جو لوگ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حق پر سمجھتے ہوئے اس جنگ میں شریک ہوئے وہ خواہ قاتل ہوں یا مقتول وہ حدیث میں مذکوروعید سے خارج ہیں اور جن لوگوں کا مقصد محض فساد برپاکرنا تھا۔
وہ قاتل ہوں یا مقتول ازروئے حدیث جہنمی ہیں۔
اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف جو لوگ حق کی حمایت کے لیے کھڑے ہوئے وہ (بِإِذْنِ اللَّهِ)
جنت میں جائیں گے لیکن جن لوگوں کا مقصد حصول اقتدار عہدہ طلبی عصبیت یا اور کوئی دنیاوی غرض تھی ان کے متعلق حدیث نبوی ہے کہ قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں عصبیت کا مفہوم یہ ہے کہ حالات کی تحقیق کیے بغیر صرف یہ سمجھ کر کسی کی مدد کی جائے کہ یہ اپنا آدمی ہے۔
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ میں لڑائی کے ارادہ سے نکلا (تاکہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑوں) تو مجھے (راستہ میں) ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مل گئے، انہوں نے کہا: تم لوٹ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ” جب دو مسلمان اپنی تلوار لے کر ایک دوسرے کو مارنے اٹھیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے “ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قاتل (کا جہنم میں جانا) تو سمجھ میں آتا ہے لیکن کا حال ایسا کیوں ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس نے بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہا تھا۔۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4268]
1) جب معاملہ کوئی واضح اور صریح نہ ہو اور دونوں جانب حق کا ایک پہلو موجود ہو تو ایسی صورت می الگ تھلگ رہنا مفید تر ہو تا ہے۔
2) اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔
جب دو شخص برسرِ پیکار ہوں معاملے اور نیتوں میں واضح فرق نہ ہو تو مقتول بھی قاتل کی طرح کہا گیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ ایک کا داؤ چل گیا اور دوسرا گھائل ہو گیا۔
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی پر ہتھیار اٹھائے (اور دونوں جھگڑنے کے ارادے سے ہوں) تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہیں، جب ایک دوسرے کو قتل کرے گا تو دونوں ہی اس میں جا گریں گے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4121]
(2) اس حدیث شریف سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص کسی بھی (اچھے یا برے) کام کا پختہ ارادہ کر لیتا ہے لیکن کسی وجہ سے اس پر عمل نہیں کر سکتا تو بھی اپنے عزم کے مطابق وہ شخص مواخذے یا اجر کا مستحق بن جاتا ہے۔
(3) مرتکب کبیرہ، ملت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتا بلکہ وہ مومن اور مسلم ہی رہتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں بھی انہیں مومن کہا گیا ہے: {وَاِِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا} اور مذکورہ احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے بھی انہیں مسلمان کہا ہے۔
(4) ”گر پڑتے ہیں“ یہ تب ہے جب دونوں کی نیت لڑائی کی ہو۔ دونوں ننگے مسلح ہوں۔ دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنے کے درپے ہوں، البتہ داؤ ایک کا لگ گیا، تو قاتل و مقتول دونوں یکساں جہنمی ہوں گے کیونکہ دونوں کی نیت قتل کی تھی۔ اس حدیث سے مراد بھی یہی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھا لیں، جس طرح کہ اگلی احادیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔ و اللہ أعلم۔
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب دو مسلمان ایک دوسرے پر ہتھیار اٹھاتے ہیں تو وہ جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں، پھر جب ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں ایک ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3965]
فوائد و مسائل:
(1)
جہنم کے کنارے پر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس غلطی کی وجہ سے ان دونوں کے جہنمی ہونے کا خطرہ ہوتا ہے لیکن ان کے لیے جہنم سے بچنے کا موقع باقی ہوتا ہے کہ لڑائی سے باز آجائیں۔
(2)
مومن کا قتل جہنم میں پہنچانے والا عمل ہے البتہ توبہ یا قصاص سے یہ گناہ معاف ہوسکتا ہے۔