صحيح البخاري
كتاب المحاربين— کتاب: ان کفار و مرتدوں کے احکام میں جو مسلمانوں سے لڑتے ہیں
بَابُ مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا دُونَ الْحَدِّ فَأَخْبَرَ الإِمَامَ فَلاَ عُقُوبَةَ عَلَيْهِ بَعْدَ التَّوْبَةِ إِذَا جَاءَ مُسْتَفْتِيًا: باب: جس نے کوئی ایسا گناہ کیا جس پر حد نہیں (مثلاً اجنبی عورت کو بوسہ دیا یا اس سے مساس کیا)۔
وَقَالَ اللَّيْثُ : عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، قَالَ : احْتَرَقْتُ ، قَالَ : مِمَّ ذَاكَ ؟ قَالَ : وَقَعْتُ بِامْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : لَهُ تَصَدَّقْ ؟ قَالَ : مَا عِنْدِي شَيْءٌ ، فَجَلَسَ وَأَتَاهُ إِنْسَانٌ يَسُوقُ حِمَارًا ، وَمَعَهُ طَعَامٌ ، قَالَ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَا أَدْرِي مَا هُوَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ ؟ فَقَالَ : هَا أَنَا ذَا ، قَالَ : خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ، قَالَ : عَلَى أَحْوَجَ مِنِّي ؟ مَا لِأَهْلِي طَعَامٌ ، قَالَ : ، فَكُلُوهُ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : الْحَدِيثُ الْأَوَّلُ أَبْيَنُ ، قَوْلُهُ : " أَطْعِمْ أَهْلَكَ " .´اور لیث نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن الحارث نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے ، ان سے محمد بن جعفر بن زبیر نے ، ان سے عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آئے اور عرض کیا میں تو دوزخ کا مستحق ہو گیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہوئی ؟ کہا کہ میں نے اپنی بیوی سے رمضان میں جماع کر لیا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ پھر صدقہ کر ۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ۔ پھر وہ بیٹھ گیا اور اس کے بعد ایک صاحب گدھا ہانکتے لائے جس پر کھانے کی چیز رکھی تھی ۔ عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا چیز تھی ۔ ( دوسری روایت میں یوں ہے کہ کھجور لدی ہوئی تھی ) اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جا رہا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ آگ میں جلنے والے صاحب کہاں ہیں ؟ وہ صاحب بولے کہ میں حاضر ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے اور صدقہ کر دے ۔ انہوں نے پوچھا کیا اپنے سے زیادہ محتاج کو دوں ؟ میرے گھر والوں کے لیے تو خود کوئی کھانے کی چیز نہیں ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ہی کھا لو ۔ عبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ پہلی حدیث زیادہ واضح ہے جس میں «أطعم أهلك» کے الفاظ ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص نے رمضان المبارک میں بحالت روزہ اپنی بیوی سے جماع کیا تھا۔
ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ماہ صیام کی بے حرمتی ہے لیکن اس پر کوئی حد لازم نہیں ہوتی بلکہ اس گناہ کی تلافی کے لیے کفارہ دینا ہوتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کفارہ ادا کرنے کے متعلق کہا، اس کے علاوہ اسے مزید کوئی سزا نہیں دی۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ واقعہ دو صحابہ سے بیان کیا ہے۔
پہلی حدیث میں زیادہ وضاحت ہے اگرچہ پیش کردہ حدیث میں وہ الفاظ نہیں ہیں جس سے امام بخاری رحمہ اللہ کا مدعا ثابت ہو سکے، تاہم ایک دوسری روایت میں ہے کہ تم یہ کھانا اپنے اہل خانہ کو کھلا دو۔
(صحیح البخاري، الصوم، حدیث: 1936)