صحيح البخاري
كتاب الأيمان والنذور— کتاب: قسموں اور نذروں کے بیان میں
بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کس طرح کھاتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمَعْرُورِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ ، وَهُوَ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ، يَقُولُ : " هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " ، قُلْتُ : مَا شَأْنِي أَيُرَى فِيَّ شَيْءٌ ، مَا شَأْنِي ؟ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ ، فَمَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَسْكُتَ وَتَغَشَّانِي مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَقُلْتُ : مَنْ هُمْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا ، إِلَّا مَنْ قَالَ : هَكَذَا ، وَهَكَذَا ، وَهَكَذَا " .´ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے ، کہا ہم سے اعمش نے ، ان سے معرور نے ، ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تو آپ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے فرما رہے تھے کعبہ کے رب کی قسم ! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں ۔ کعبہ کے رب کی قسم ! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں ۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میری حالت کیسی ہے ، کیا مجھ میں ( بھی ) کوئی ایسی بات نظر آئی ہے ؟ میری حالت کیسی ہے ؟ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے ، میں آپ کو خاموش نہیں کرا سکتا تھا اور اللہ کی مشیت کے مطابق مجھ پر عجیب بےقراری طاری ہو گئی ۔ میں نے پھر عرض کی ، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس مال زیادہ ہے ۔ لیکن اس سے وہ مستثنیٰ ہیں ۔ جنہوں نے اس میں سے اس اس طرح ( یعنی دائیں اور بائیں بےدریغ مستحقین پر ) اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہو گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اوردنیا میں ہی لوگوں کی نفرت اور غیظ وغضب کا نشانہ بنیں گے۔
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے آپ نے مجھے آتا دیکھا تو فرمایا: ” رب کعبہ کی قسم! قیامت کے دن یہی لوگ خسارے میں ہوں گے “ ۲؎ میں نے اپنے جی میں کہا: شاید کوئی چیز میرے بارے میں نازل کی گئی ہو۔ میں نے عرض کیا: کون لوگ؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہی لوگ جو بہت مال والے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایسا ایسا کرے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ سے لپ بھر کر اپنے سامنے اور اپنے دائیں اور اپنے بائیں طرف اشارہ کیا، پھر فرمایا: ” قسم ہے اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 617]
1؎:
زکاۃ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے تیسرا رکن ہے، اس کے لغوی معنی بڑھنے اور زیادہ ہونے کے ہیں، زکاۃ کو زکاۃ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ زکاۃ دینے والے کے مال کو بڑھاتی اور زیادہ کرتی ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس کے معنی پاک کرنے کے ہیں اور زکاۃ کو زکاۃ اس لیے بھی کہتے ہیں کہ یہ مال کو پاک کرتی ہے اور صاحب مال کو گناہوں سے پاک کرتی ہے، اس کی فرضیت کے وقت میں علماء کا اختلاف ہے، اکثر علماء کا یہ قول ہے کہ 2ھ میں فرض ہوئی اور محققین علماء کا خیال ہے کہ یہ فرض تو مکہ میں ہی ہو گئی تھی مگر اس کے تفصیلی احکام مدینہ میں 2ھ میں نازل ہوئے۔
2؎:
یا توآپ کسی فرشتے سے بات کر رہے تھے، یا کوئی خیال آیا تو آپ نے ((هُمْ الْأَخْسَرُونَ)) فرمایا۔
3؎:
یہ عذاب عالم حشر میں ہو گا، حساب و کتاب سے پہلے۔
4؎:
یعنی روندنے اور سینگ مارنے کا سلسلہ برابر چلتا رہے گا۔
5؎:
اس کی تخریج سعید بن منصور، بیہقی، خطیب اور ابن نجار نے کی ہے، لیکن روایت موضوع ہے اس میں ایک راوی محمد بن سعید بورمی ہے جو کذاب ہے، حدیثیں وضع کرتا تھا۔
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ خانہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے، جب آپ نے ہمیں آتے دیکھا تو فرمایا: ” وہ بہت خسارے والے لوگ ہیں، رب کعبہ کی قسم “! میں نے (اپنے جی میں) کہا: کیا بات ہے؟ شاید میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے، میں نے عرض کیا: کون لوگ ہیں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں؟ آپ نے فرمایا: ” بہت مال والے، مگر جو اس طرح کرے، اس طرح کرے “ یہاں تک کہ آپ اپنے سامنے، اپنے دائیں، ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2442]
(2) قیامت کے دن صرف انسان ہی نہیں بلکہ ہر ذی روح چیز اٹھے گی۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کوئی اونٹ، بکری اور گائے والا اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، تو اس کے جانور قیامت کے دن اس سے بہت بڑے اور موٹے بن کر آئیں گے جتنے وہ تھے، وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گے اور کھروں سے روندیں گے، جب اخیر تک سب جا نور ایسا کر چکیں گے تو پھر باربار تمام جانور ایسا ہی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1785]
فوائد و مسائل:
(1)
زكاة نہ دینا بہت بڑا گناہ ہے۔
(2)
جانوروں میں بھی زکاۃ فرض ہے جس کی تفصیل اگلے ابواب میں آرہی ہے۔
(3)
کبیرہ گناہوں کے مرتکب افراد کو میدان حشر میں بھی گناہوں کی سزا ملے گی۔
(4)
بعض صورتوں میں ممکن ہے کہ محشر کی یہ سزا ہی اس کے لیے کافی ہو جائے اور جہنم کی سزا نہ بھگتنی پڑے۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ’’(اسے یہ عذاب ہوتا رہے گا)
اس دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے حتی کہ لوگوں کا فیصلہ ہو جائے گا پھر اسے جنت یا جہنم کا راستہ دکھا دیا جائے گا۔‘‘ (صحیح مسلم، الزکاۃ، باب اثم مانع الزکاۃ، حدیث: 987)