صحيح البخاري
كتاب الرقاق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
بَابُ الصَّبْرِ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ: باب: اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا ان سے صبر کئے رہنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ أُنَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَسْأَلْهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَّا أَعْطَاهُ حَتَّى نَفِدَ مَا عِنْدَهُ ، فَقَالَ لَهُمْ حِينَ نَفِدَ كُلُّ شَيْءٍ : " أَنْفَقَ بِيَدَيْهِ مَا يَكُنْ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ لَا أَدَّخِرْهُ عَنْكُمْ ، وَإِنَّهُ مَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ ، وَلَنْ تُعْطَوْا عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ " .´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عطاء بن یزید لیثی نے خبر دی اور انہیں ابوسعید رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` چند انصاری صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا اور جس نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیا ، یہاں تک کہ جو مال آپ کے پاس تھا وہ ختم ہو گیا ۔ جب سب کچھ ختم ہو گیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بھی اچھی چیز میرے پاس ہو گی میں اسے تم سے بچا کے نہیں رکھتا ہوں ۔ بات یہ ہے کہ جو تم میں ( سوال سے ) بچتا رہے گا اللہ بھی اسے غیب سے دے گا اور جو شخص دل پر زور ڈال کر صبر کرے گا اللہ بھی اسے صبر دے گا اور جو بےپرواہ رہنا اختیار کرے گا اللہ بھی اسے بےپرواہ کر دے گا اور اللہ کی کوئی نعمت صبر سے بڑھ کر تم کو نہیں ملی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
﴿واللہُ مَعَ الصابرینَ﴾
(1)
اس حدیث میں لوگوں سے بے نیاز رہنے کی ترغیب ہے اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے صبر کے ذریعے سے لوگوں سے نہ مانگنے پر ابھارا گیا ہے، نیز انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے دیے ہوئے رزق کا انتظار کرے اور بے صبری کو اپنے پاس نہ آنے دے کیونکہ صبر سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں، اس پر بلا حد و حساب اجروثواب کا وعدہ ہے۔
(2)
بلا ضرورت سوال کرنا حرام ہے اور صبر کے ذریعے سے اس حرام کے ارتکاب سے باز رہنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
عنوان کا مقصد بھی یہی ہے۔
(3)
بہرحال صبر ایک عجیب نعمت ہے۔
صابر انسان کی طرف لوگوں کے دل مائل ہو جاتے ہیں اور وہ اس سے ہمدردی کرنے کے لیے بے چین ہو جاتے ہیں۔
قرآن کریم میں ہے: ’’اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
‘‘ (البقرة: 153/2)
حدیث کے آخری الفاظ: ’’کسی بندے کو صبر سے زیادہ بہتر اور وسیع کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی۔
‘‘ قابل غور ہیں، واقعہ یہی ہے کہ صبر دل کی جس کیفیت کا نام ہے وہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں ایک مقام پر صبر کو نماز پر مقدم کیا گیا ہے۔
(البقرة: 45/2)
مگر پھر بھی کتنے ہی ایسے معذورین مرد عورت ہوتے ہیں جن کو بغیر سوال کئے چارہ نہیں۔
ان کے لیے فرمایا: ﴿وَاَمَّا السَّائِلَ فَلاَ تَنهَر﴾ یعنی سوال کرنے والوں کو نہ ڈانٹو۔
بلکہ نرمی سے ان کو جواب دے دو۔
حدیث ہذا کے راوی حضرت ابوسعید خدری ؓ ہیں۔
جن کا نام سعد بن مالک ہے۔
اور یہ انصاری ہیں۔
جو کنیت ہی سے زیادہ مشہور ہیں۔
حافظ حدیث اور صاحب فضل و عقل علمائے کبار صحابہ میں ان کا شمار ہے۔
84 سال کی عمر پائی اور 74 ھ میں انتقال کیا اور جنت البقیع میں سپرد خاک کئے گئے۔
رضي اللہ عنه وأرضاہ۔
شریعت اسلامیہ کی یہ خوبی کس قدر اہم ہے کہ اس نے اپنے ماننے والوں کو لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور ان سے سوال کرنے سے مختلف طریقوں کے ساتھ منع کیا ہے اور اپنے زور بازو سے کمانے اور رزق حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے، لیکن اس کے باوجود بعض معذور ایسے ہیں جنہیں بغیر سوال کیے چارہ نہیں۔
ان کے متعلق قرآن کا حکم ہے کہ انہیں ڈانٹ نہیں پلانی بلکہ اگر انہیں دینے کے لیے کچھ نہ ہو تو نرمی سے جواب دینا ہے۔
(2)
علامہ عینی ؒ نے سوال کی تین قسمیں ذکر کی ہیں: ٭ حرام: یہ اس شخص کے لیے ہے جو زکاۃ سے بے نیاز ہو یا خواہ مخواہ اپنے آپ کو فقیر ظاہر کرے۔
٭ مکروہ: جس کے پاس ضرورت کے لیے مال موجود ہو اور فقر کو ظاہر نہ کرے۔
٭ مباح: جو معروف طریقے سے اپنے کسی قریبی یا دوست سے مانگتا ہے، البتہ ضرورت کے وقت اپنی جان بچانے کے لیے سوال کرنا ضروری ہے۔
حرص نفس اور سوال کے بغیر اگر کچھ مل جائے تو اسے لینے میں کوئی حرج نہیں۔
(عمدةالقاري: 494/6)
اس حدیث میں سوال نہ کرنے کے تین درجے بیان ہوئے ہیں: پہلا یہ ہے کہ انسان سوال سے پرہیز کرے، لیکن استغناء کو ظاہر نہ کرے، دوسرا یہ کہ مخلوق سے تو بے نیاز رہے، البتہ اسے کچھ دے دیا جائے تو خوشی سے قبول کرے اور تیسرا یہ ہے کہ دینے کے باوجود اسے قبول نہ کرے۔
یہ صبروثبات کا آخری درجہ ہے جو مکارم اخلاق کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ چند انصاریوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، آپ نے انہیں دیا، انہوں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دیا، پھر فرمایا: ” جو مال بھی میرے پاس ہو گا میں اس کو تم سے چھپا کر ہرگز جمع نہیں رکھوں گا، لیکن جو استغناء ظاہر کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو غنی کر دے گا ۱؎، جو سوال سے بچے گا اللہ تعالیٰ اس کو سوال سے محفوظ رکھے گا، اور جو صبر کی توفیق مانگے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق عطا کرے گا، کسی شخص کو بھی صبر سے بہتر اور کشادہ کوئی چیز نہیں ملی۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 2024]
وضاحت:
1؎:
یعنی جو قناعت سے کام لے گا اور لوگوں کے سامنے ہاتھ بڑھانے اور سوال کرنے سے بچے گاتو اللہ تعالیٰ اسے اطمینان قلب بخشے گا اور دوسروں سے بے نیاز کردے گا۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے انہیں دیا، انہوں نے پھر مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دیا، یہاں تک کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا، ختم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرے پاس جو بھی مال ہو گا میں اسے تم سے بچا کے رکھ نہ چھوڑوں گا، لیکن جو سوال سے بچنا چاہتا ہے اللہ اسے بچا لیتا ہے، جو بے نیازی چاہتا ہے اللہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے، جو صبر کی توفیق طلب کرتا ہے اللہ اسے صبر عطا کرتا ہے، اور اللہ نے صبر سے زیادہ وسعت والی کوئی نعمت کسی کو نہیں دی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1644]
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو سوال کرے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ ہو تو اس نے الحاف کیا “، میں نے (اپنے جی میں) کہا: میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے۔ (ہشام کی روایت میں ہے: چالیس درہم سے بہتر ہے)، چنانچہ میں لوٹ آیا اور میں نے آپ سے کچھ نہیں مانگا ۱؎۔ ہشام کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ اوقیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چالیس درہم کا ہوتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1628]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میری ماں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (کچھ مانگنے کے لیے) بھیجا، میں آیا، اور بیٹھ گیا، آپ نے میری طرف منہ کیا، اور فرمایا: ” جو بے نیازی چاہے گا اللہ عزوجل اسے بے نیاز کر دے گا اور جو شخص سوال سے بچنا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا، اور جو تھوڑے پر قناعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے کافی ہو گا۔ اور جو شخص مانگے اور اس کے پاس ایک اوقیہ (یعنی چالیس درہم) کے برابر مال ہو تو گویا اس نے چمٹ کر مانگا “،۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2596]
(2) ”مستغنی ظاہر کرے۔“ یعنی باوجود فقیر ہونے کے اپنے فقر کا اظہار نہ کرے۔
(3) ”کفایت کا طالب ہو۔“ یعنی وہ حریص نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق طلب کرتا ہے۔ یا اللہ تعالیٰ سے کفایت کی دعا کرے۔
(4) یاقوتہ ان کی اونٹنی کا نام تھا۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ نے انہیں دیا، ان لوگوں نے پھر سوال کیا، تو آپ نے انہیں پھر دیا یہاں تک کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا ختم ہو گیا، تو آپ نے فرمایا: ” میرے پاس جو ہو گا اسے میں ذخیرہ بنا کر نہیں رکھوں گا، اور جو پاک دامن بننا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے پاک دامن بنا دے گا، اور جو صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دے گا، اور صبر سے بہتر [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2589]
(2) ”صابر بنائے گا۔“ یعنی صبر کے حصول کے لیے عزم کی بھی ضرورت ہے۔ ہمت کرے انسان تو کیا نہیں ہو سکتا۔
(3) ”وسیع عطیہ“ یعنی صبر بہت بڑا عطیہ ہے مگر مصیبت زدہ کے لیے۔ ویسے اللہ تعالیٰ سے صبر کے اسباب نہیں مانگنے چاہئیں۔ ہاں! اگر کوئی مصیبت سر پر آن پڑے تو صبر مانگے۔ صبر کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ دین پر پختگی، حرام اور گناہ سے پرہیز، حوصلہ مندی اور مصیبت میں نہ گھبرانا یہ سب صبر ہی کے معانی ہیں۔
«. . . عن ابى سعيد الخدري ان ناسا من الانصار سالوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعطاهم ثم سالوه فاعطاهم، ثلاثا، حتى نفد ما عنده، ثم قال: ”ما يكون عندي من خير فلن ادخره عنكم، ومن يستعفف يعفه الله، ومن يستغن يغنه الله، ومن يتصبر يصبره الله. وما اعطي احد عطاء هو خير واوسع من الصبر . . .»
”. . . سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین دفعہ (مال) مانگا تو آپ نے انہیں (تین دفعہ) عطا فرمایا حتی کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا سب ختم ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جو بھی خیر ہو گی (بہترین مال ہو گا) تو میں اسے تم سے (روک کر) ہرگز ذخیرہ نہیں کروں گا (بلکہ تمہیں دے دوں گا) اور جو شخص مانگنے سے بچے گا تو اللہ تعالیٰ اسے بچائے گا اور جو بےنیازی اختیار کرے گا تو اللہ اسے بےنیاز کر دے گا جو شخص صبر کرے گا تو اللہ اسے صابر و شاکر بنا دے گا اور صبر سے زیادہ بہتر اور وسیع کوئی چیز (لوگوں کو) عطا نہیں کی گئی ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 615]
[وأخرجه البخاري 1469، ومسلم 1053، من حديث مالك به]
تفقه
➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ سخی اور اپنی امت کے خیر خواہ تھے۔
➋ مانگنے والے اور محتاج کو ایک سے زیادہ دفعہ صدقات و خیرات وغیرہ دینا جائز ہے۔
➌ جس شخص کے پاس (ضرورت سے زائد) مال نہ ہو تو وہ مانگنے والے کے سامنے اپنا عذر بیان کر سکتا ہے۔
➍ بہترین اخلاق یہی ہے کہ ضرورت مند بھی کچھ نہ مانگے بلکہ صبر اور توکل سے ہمیشہ کام لے۔ دوسرے لوگوں کے ہاتھوں کی طرف لالچ کی وجہ سے دیکھتے رہنا اور بغیر شرعی عذر کے مانگنا اچھی روش نہیں ہے جیسا کہ دوسری احادیث سے ثابت ہے۔ نیز دیکھئے: [ح: 174]
➎ علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب رحمہ اللہ نے فرمایا: «ما نقصت صدقة من مال وما زاد الله عبدًا بعفو إلا عزًا وما تواضع عبد إلا رفعه الله» ”صدقہ مال سے کوئی کمی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے بندے کی عزت بہت زیادہ کرتا ہے اور جو بندہ تواضع (عاجزی وانکساری) کرتا ہے تو اللہ اس کا مرتبہ بلند کردیتا ہے۔“ [الموطأ رواية يحييٰ 2/1000 ح1949ب وسنده صحيح]
یہ روایت (اثر) صحیح مسلم میں «العلاء بن عبد الرحمن عن ابيه عن ابي هريرة» کی سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے بھی موجود ہے۔ [صحیح مسلم 2588 وترقيم دارالسلام: 6592]